20اگست
Pakistani drug addicts inhale drug smoke in Rawalpindi, Pakistan on Wednesday, June 26, 2013. Pakistan is marking the International Day Against Drug Abuse and Illicit Trafficking, where according to reports over six million people are using drugs due to easy availability and trafficking from neighboring Afghanistan and local harvesting. (AP Photo/B.K. Bangash)

قانون،پولیس اور رگوں میں اترتا زہر

قانون،پولیس اور رگوں میں اترتا زہر | آصف شہزاد

نوجوانوں کی رگوں میں آئس اور ہیروئین کا زہر اتارا جارہا ہے جبکہ باشعور حلقوں کو زندہ باد مردہ باد سے فرصت ہی نہیں !
"سیاہ ست” نے پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں ایسے لے رکھا ہے کہ کوئی بھی فرد پلٹ کر دیکھنے کو تیار نہیں !
معاشرہ برائیوں اور جرائم کا گڑھ بنتا جارہا ہے جبکہ قوم رنگین جھنڈوں کے سائے میں "سیاہ سی” ترانوں کے دھن پر خرمست خوابوں کی پٹاری سر پر لئے ناچ رہی ہے !
مسائل کا تدارک اور ان کے حل میں عدم دلچسپی سے بلاشبہ بھیانک نتائج مرتب ہورہے ہیں !
عزیزان من !
منشیات پر اگر بروقت قابو نہ پایا گیا تو خدانخواستہ یہ لعنت ہمارے معاشرہ کیلئے ناسور بن جائیگی اور پھر چائنہ ہی کی مثال لے لیں کہ افیون کے عادی شہریوں کو ریاست ہی کے ہاتھوں مرنا پڑا !
منشیات فروشی کے گھناؤنے کاروبار میں ملوث زیادہ تر عناصر باقی دنیا کی طرح یہاں بھی بے پناہ طاقت میں ہیں کوئی بھی ان کے خلاف اقدام نہیں کرسکتا پولیس کو بھی ڈرایا دھمکایا جاتا ہے کیونکہ مینگورہ شہر میں منشیات فروخت کرنے والے بے شمار ایسے ڈیلرز ہیں جن کے بااثر شخصیات میرا مطلب ہے نامی گرامی بدمعاشوں سے دیرینہ روابط ہیں اور یہ روابط ایسے ہیں کہ جن میں کچھ حیوانی مجبوریاں بھی پنہاں ہیں جیساکہ منشیات ڈیلرز میں اکثریتی طور پر خوبرو عورتیں ہیں یا یوں کہئیے کہ یہ ڈیلرزخوبرو عورتوں کے رشتہ دار ہیں !
لہٰذا مجال ہے کہ کوئی ان ڈیلرز پر ہاتھ ڈالنے کی جرات کرسکے یا ان کے خلاف کوئی قانونی کاروائی عمل میں لائے اور اگر ایک آدھ آفیسر جرات کر بھی لیتا ہے تو دوسرے روز ٹرانسفر اور معطلی کی دھمکیاں دیکر اثر رسوخ استعمال کرکے ان ڈیلرز کو باعزت طور پر آزاد کرالیا جاتا ہے۔۔۔!!!
۲۰۰۹ کے بعد ان ڈیلران نے طاقت کے منبع کو بھی پہچان لیا ہے اور جو سِکّہ طاقتوروں کے ہاں رائج الوقت ہے اس کا بھی مکمل انتظام رکھتے ہیں لہٰذا پولیس کی کارکردی بلا شبہ متاثر ہے !
منشیات کے عادی افراد کا قصور بھی بس اتناہی ہے کہ انہیں لت لگ چکی ہے اور وہ اس لعنت کے عادی بن چکے ہیں !
اور یہ لعنت شہر میں آسانی سے اسلئے دستیاب ہے کیونکہ پولیس کی مبینہ سرپرستی ہے !
اور پولیس اسلئے مجبور ہیں کیونکہ بڑے لوگوں کی سرپرستی واضح ہے !
اور بڑے لوگ اسلئے سرپرستی کررہے ہیں کیونکہ عدالت نے کونسی سزا دینی ہے ؟
جبکہ عدالت سزا اسلئے نہیں دے سکتی کیونکہ سخت سزا قانون میں نہیں لکھی !
اور جو لکھی سزا ہے وہ ہیروئین کی ایک پوڑی کی مار ہے
اب سوال اٹھتا ہے کہ قانون سازی کس کی ذمہ داری ہے۔۔۔؟
جواب آتا ہے کہ اسمبلیوں کی !
پھر سوال اُبھرتا ہے کہ اسمبلی ممبران کو کس نے منتخب کیا ؟
جواب ملتا ہے کہ عوام نے !
اب کے بار سوال کیساتھ جواب بھی پیدا ہوتا ہے
عوام نے کیوں منتخت کیا ؟
کیونکہ "شاہ رخ خان” کی طرح دکھتا ہے اور سلمان خان کی طرح دبنگ ہے !
لاحولہ ولاقوة الا باللہ
جب یہ حال ہو ہمارے معاشرتی شعور کا تو ووٹ ضرور ایسے شخص کے حق میں جائیگا جو اسمبلی فلور پر کھڑے ہوکر قوانین سازی کیلئے دو شپت بھی کہنے سے قاصر ہوگا !
ستم بالا ستم تو یہ بھی ہے کہ پولیس ان منشیات فروشوں کو پکڑتی ہے تو ایف آئی آر درج کئے بغیر حوالات میں رکھنا پڑتا ہے اوپر سے چائے پانی کا بھی پوچھنا ہوتا ہے کیونکہ تلوار تو بہرحال سر پر لٹکتی ہی رہتی ہے اب کہ تب کوئی بڑا آدمی دو چار چمچوں کے حصار میں یہ کہتے ہوئے وارد ہوگا کہ کیوں لائے ہو میرے بندے کو ؟
اگر کوئی سر پھرا آفیسر کسی کی پرواہ کئے بغیر ایف آئی آر درج کرکے ملزم کو عدالت میں پیش کرا بھی دیتا ہے تو عدالت مبلغ پانچ سو روپے یا مبلغ پندرہ سو رپے کا جرمانہ عائد کرکے باعزت طور بری کرتی ہے۔اب نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس آفیسر نے بڑے آدمی سے دشمنی بھی مول لی اور برائی بھی مزید ڈھٹائی کیساتھ جاری ہے !
لہٰذا پولیس کی کارکردگی چاروناچار ناقص ہے اور ہم خوب جانتے ہیں کہ ریاست میں پولیس کا کام چونکہ معاشرہ سے بُرائیوں اور جرائم کا خاتمہ ہے تاہم اگر پولیس خود ہی ان برائیوں کے سوداگروں کے مبینہ معاون ثابت ہو تو نتائج کالے رنگ کے نہ ہونگے تو کیسے ہونگے ؟
قوم کے بچے اگر آج گندگی میں بیٹھے ہیروئین پی رہے ہیں تو مجھے بتایا جائے کہ میں کونسی تبدیلی کو خراج تحسین پیش کروں؟
اگر موجودہ حکومت کے اسیر نوجوان مجھ سے اس بات پر نالاں ہیں کہ میں حکومت کے گُن نہیں گارہا تو ان نوجوانوں اور سیاسی پارٹیوں کیلئے اپنا ایمان خراب کرنے والے شیروں ، ٹائیگروں ، ننگیالوں اور جیالوں سے گزارش ہے کہ معاشرہ سے کونسی برائیاں ختم ہوئی ہیں اور کونسی خوشحالی آئی ہے جس کے میں قصیدے لکھوں ؟
آخر میں ہاتھ جوڑ کر عوامی حلقوں کی منت کرتا ہوں کہ خدارا۔۔۔!!! خدارا ائندہ الیکشن میں "سیاہ سی” بُت پرستی میں سے آزاد ہوکر ووٹ کا استعمال کریں زندہ باد اور مردہ باد کے سریلے نعروں میں مگھن ہوکر اپنے ووٹ کو ضائع نہ کریں بلکہ پارٹی بازی اور تعلقات کو ایک طرف رکھ کر ووٹ کا استعمال اس ذمہ داری کیساتھ کریں کہ ائندہ نسلوں کیلئے ضابطوں کی تجدید ہو ایسے ممبران کا انتخاب کریں جو معاشرتی تبدیلیوں کیلئے اسمبلی فلور پر سیاہ سی تقاریر کے بجائے مثبت بات کرسکتے ہو !
جو یہ فہم رکھتے ہو کہ صرف بہتر قانون سازی ہی اس قوم کو ترقی کہ راہ پر گامزن کرسکتی ہے

تبصرے

comments

29ستمبر
IMG_4174.JPG

سوات کے ماتھے کا "جھومر" 

اگر تاریخ کے صفحات کو اُلٹ پلٹ کر دیکھا جائے تو جواب یہی برامد ہوگا کہ اس سحر انگیز وادی کے صاف اور شفاف پانیوں ہی کی وجہ تھی کہ اس وادی کو "سوات" کہا جاتا ہے کیونکہ قدیم زبانوں سے ہوتا ہوا لفظ "سوات" کی معنی "سفید پانی" ہی کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس وادی کے وسط میں بہتے سفید پانی کے دریا ہی کی وجہ تھی کہ یہ علاقہ یعنی "وادی سوات" دور قدیم کے مختلف تہذیبوں کی توجہ کا مرکز رہا اور یہ تہذیبیں ایک طویل عرصے تک دریائے سوات کے کنارے واقع علاقوں میں آباد ہوتی گئیں اور ان علاقوں کو زندگی گزارنے کیلئے موزوں تصور کرتے ہوئے اپنا مستقل مسکن بنالیا تھا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود اب بھی اُن تہذیبوں کے آثار و نشانات دریائے سوات کے کنارے واقع ارد گرد کے علاقوں سےنمودار ہو تے رہتے ہیں۔

 دریائے سوات صرف ایک دریا ہی نہیں بلکہ اس علاقے کی خوشحالی کا ضامن اور یہاں کے باسیوں کا ایک بہترین ذریعہ معاش بھی ہے کیونکہ دریائے سوات ہی ہے جوکہ اس وادی کو ملک کے دیگر سیاحتی مقامات سے منفرد بناتا ہے اور یہی دریا سیاحوں کو سوات آنے پر مجبور کرتا ہے اور اپنی محسور کن کیفیت سے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہوئے یہاں پر گزرتے لمحات کو مسرور و محسوربناتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پہاڑ و جنگلات اور دیگر قدرتی مناظر سے وطن عزیز کے تمام شمالی علاقاجات مالامال ہیں لیکن پھر بھی نسبتاً وادی سوات ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا محور و مرکز رہا ہے اور اب بھی سیاحوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہر سال وادئ سوات کا رخ کرتی نظر آتی ہے اور پچھلے دو یا تین سالوں سے تو اس تعداد میں بے انتہا اضافہ ہوتا آرہا ہے جوکہ آپ لوگوں کے مشاہدے میں بھی آچکا ہوگا۔ الغرض یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ سیاحوں کی آمد میں اضافے کی سب بڑی وجہ دریائے سوات کا سفید اور ٹھنڈا پانی ہے اور سیاحوں کو یہاں آنے پر یہی دریائےسوات مجبور کرتا ہے اور اس دریا کو لامحالہ سوات کے ماتھے کا جھومر کہا جاتا ہے۔

لیکن ٹھرئے !!!

بات یہ ہے کہ میں امید کرتا ہوں کہ آپ نے تحریر کے مندرجہ بالا حصے کو بغور پڑھ لیا ہوگا۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ لمحۂ موجود میں آپ سینہ چوڑا کرکے فخر محسوس کررہے ہونگے کہ آپ کا تعلق ایسے ملک سے ہے جوکہ قدرتی حسن اور تاریخی مقامات سے مالامال ہے۔ لیکن خیر یہ تو تھے قدرتی حسن اور دلکشی سے مالامال وادئ سوات کے باسیوں کیلئے جگہ جگہ برتری جتانے کیلئے خصوصیات ،فخریات ، خوش فہمیاں ، قصیدے ، وغیرہ وغیرہ۔۔۔!!!

اب گزارش یہ ہے آپ لوگوں کے توجہ شریف کو ایک انتہائی اہم مسلۂ کی طرف راغب کرانے کی جسارت کروں؟؟

اچھا تو سُنئیں !!

عرض یہ ہے کہ ہم لوگوں کی ستم ضریفی کا حال تو یہ ہے کہ ہمیں اس دریا کی اہمیت و افادیت کا بالکل شعور ہی نہیں ہے بلکہ ہر وقت اپنی استطاعت کے مطابق اس دریا کو گندا کرنے میں اپنا کردار ادا کررہے ہوتے ہیں۔ اور دریائے سوات کی اہمیت و افادیت کو فراموش کرتے ہوئے جنگلات کی غیر قانونی اور بے دریغ کٹائی اور دریا میں غلاظت ڈالنے پر قطعاً کبھی اواز نہیں اُٹھاتے !!

یاد رہے کہ ۔۔!!

"ظلم کے خلاف اواز اُٹھانے کی استطاعت ہونے کے باوجود اواز نہ اٹھانا ظالم کا ساتھ دینا ہے"۔

جنگلات کی بے دریغ کٹائی کے نقصانات یہ ہیں کہ جگہ جگہ لینڈ سلائڈنگ کے باعث ڈھیر ساری مٹی دریا میں گرجاتی ہے اور ساتھ ہی دریا میں طغیانی اور سیلاب کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ میونسپل کمیٹی مینگورہ سمیت کئی سرکاری و غیر سرکاری ادارے بھی دریائے سوات کو گندگی کا ٹھکانہ بنارہے ہیں اور شہر بھر کی گندگی اور غلاظت دریائے سوات میں گرانے سے قطعی نہیں کتراتے اور لاقانونیت اور بے ضابطگی کے اس عمل میں میونسپل کمیٹی مینگورہ سر فہرست ہے جوکہ گندگی سے بھرے ٹرک قطار در قطار انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ دریائے سوات میں اتارتے رہتے ہیں اور کوئی ان سے پوچنے والا نہیں کیونکہ وطن عزیز میں "سب چلتا ہے" کے مصداق سب ہی چلتا ہے۔۔۔!!!

اسی طرح میونسپل کمیٹی کے کردار کو دیکھتے ہوئے دریائے سوات کے کنارے قائم غیر قانونی ہوٹلز مالکان نے روزانہ کی بنیادوں پر ہوٹلز کی گندگی اور فضلہ دریائے سوات میں ڈالنا اپنا معمول بنا رکھا ہے۔ لمحۂ تشویش تو یہ ہے کہ دریا کے کنارے بنے بے تحاشا ہوٹلز کے مالکان نے نکاسی آب کے پائپ دریائے سوات میں ڈال دئیے ہیں۔ اور کئی جگہوں پر تو فلش سسٹم کے پائپ بھی گٹر کے بجائے دریائے سوات میں ڈال دئے گئے ہیں بلکہ اب تو دریا کے نزدیکی آبادیوں میں گٹر کا تصور بھی ختم ہوتا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دریا کا پانی گندا ہونے کی وجہ سے آبی حیات شدید خطرے سے دوچار ہیں اور یہ پانی تقریباً زہریلا ہوتا جارہاہے جس کی وجہ سے مچھلیوں کے دیگر انواع و اقسام کے ساتھ ساتھ مشہور سواتی مچھلی بھی ناپید ہوتی جارہی ہے۔ کبھی ایسے بھی دن تھے جب ہم بلا جھجک و کراہت دریائے سوات سے پانی پیا کرتے تھے اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کئی مقامی لوگ معمول کے مطابق باقاعدگی سے اسی دریا کا پانی کھانے پینے کے استعمال کےلئے لے جایا کرتے تھے۔ ہمارے تو تصور میں بھی نہیں تھا کہ دریائے سوات کا صاف و شفاف پانی کھانے پینے کے استعمال کے لائق نہیں رہیگا بلکہ ہمیں تو ہر وقت اس فخر اور شکر کا احساس رہتا تھا کہ دریائے سوات صاف اور شفاف پانی کا بہت بڑا ذخیرہ ہے جوکہ اللہ تعالٰی کی خاص مہربانی ہے سوات کے لوگوں پر کہ وادی سوات کو پورے ملک کے دیگر سیاحتی علاقوں سے منفرد بنایا ہے۔

لیکن آج اس دریا پرافسوس کے سوا کچھ نہیں !!!

 

آخر میں ہم وزارت ماحولیات اور مقامی انتظامیہ سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ سوات کے ماتھے کا جھومر اور یہاں کی معاشی بہتری کا ضامن یعنی دریائے سوات کو تباہی سے بچایا جائے اور جنگی بنیادوں پر اس ظلم میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے اور کسی بھی سیاسی مداخلت کو بالائے طاق رکھ کر مخلصانہ طور پر مثبت کردار ادا کیا جائے۔

تبصرے

comments

28ستمبر
IMG_4158-0.jpg

بھگدڑ کی لاشیں !!!

عرض یہ ہے کہ لاشوں کو فوری طور پر وہاں سے اُٹھانا وقت کی مناسبت سے بہترین فیصلہ تھا چاہے کرین یا بلڈوزر سے ہٹائے گئے ہو یا ہاتھوں سے !!

چاہے ایک دوسرے کے اوپر لاد کر انبار بنادئے گئے ہو یا ایک ایک کرکے سٹریچر پر !! 

لیکن مقصد تھا نظام کو فوری طور پر بحال کرنا اور حج کےانتظام کو روکے بغیر رستہ صاف کرنا اور سہل گزار بنانا۔۔۔!!!

 تاکہ مزید نقصان سے بچا جاسکے اور تماشا بھی نہ ہو۔۔۔۔!!! 

لاشیں تو لاشیں ہیں ان میں  "ارواح" تو تھیں نہیں !!

چاہو تو منوں مٹی ڈال کر دفن کردو یا چاہو تو سمندر میں پھینک آؤ کوئی قید نہیں ! کوئی پابندی نہیں !!  

وہ لوگ تو مرتے ہی عالم ارواح میں پہنچ گئے تھے اور خالق حقیقی سے جا ملے تھے اب اللہ تعالٰی کا فیصلہ ہے کہ انہیں کونسا مقام عطاء کرتا ہے !! کیونکہ جزا اور سزا کا معاملہ تو "روح" کے ساتھ ہے !!

المیہ یہ ہے مسلمانوں کو انتہائی آسانی سے بہکادیا جاتا ہے اور عرب کو نشانہ بناکر مسلمانوں کو اسلام سے بد ظن کرانے کی مذموم کوشش کیجاتی ہے۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ سرزمین عرب پر بُرے لوگوں کی بھی کمی نہیں لیکن اسلام کے دشمنوں اور ملحدین کو ہرگز یہ حق حاصل نہیں کہ چند بد مست شیوخ کے ذاتی کردار کو اسلام سے منسوب کرکے اسلام پہ لعن طعن کرنا شروع کردے میں کبھی بھی اسلام سے بیزار شیوخ کا دفاع نہیں کرونگا لیکن کون نہیں جانتا کہ عرب خادمینِ حرمین حج انتظامات میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتنےدیتے اور حجاج کرام کو تمام ممکن سہولیات اور انتظامات فراہم کرتے ہیں۔

منٰی واقع یقیناً انتہائی افسوسناک واقع ہے لیکن اس قسم کے واقعات کی وجوہات میں حجاج کی بد نظمی کا عنصر زیادہ شامل ہوتا ہےاور حالیہ واقع کے تحقیقات سے بھی یہی شواہد ملے ہیں۔

لیکن اُس موقع کےچند تصاویر کو بنیاد بناکر ملحدین کی جانب سے سوشل میڈیا پر طرح طرح کے بھونڈی اور غیر معیاری پوسٹوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ سعودی عرب میں سینکڑوں سالوں سے یہی روایت رہی ہے کہ لاشوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی اور قدر و احترام "ارواح" کی ہی ہوتی ہے اور عرب میں تو قریبی رشتہ داروں کے لاشوں کو بھی ٹھکانے لگانے کےلئے کسی قسم کی زحمت نہیں اُٹھائی جاتی بلکہ حکومت کی طرف سے یہ کام مقامی میونسپیلٹی کے سپرد کردیا گیا ہے یہاں تک کہ اگر کسی کے والدین یا اولاد میں بھی کوئی فوت ہوجاتا ہے تب بھی میونسپیلٹی کو فون کیا جاتا ہیں اور وہ آکر میت لے جاتے ہیں۔ 

اور یہی رویہ قبروں کے ساتھ بھی ہےعرب میں قبریں بھی ایسی ہوتی ہیں کہ چند سالوں میں ان کا نام و نشان مٹ جاتا ہے جیسے کہ الجنۃ البقیع اس کی زندہ مثال ہے جہاں جلیل القدر اصحابہ کرام کی قبریں بھی زمین کے ساتھ ہموار ہوگئیں ہیں۔ 

اور ویسے بھی اسلام زندہ انسانوں کے قدر و احترام کی تلقین کرتا ہے اور مردہ جسموں کو ٹھکانے لگانے کا درس دیتا ہے اور ہمیشہ زندہ انسانوں کی قدر و احترام اور ایک دوسرے کے عزت نفس کی تعلیم دیتا ہے۔ 

تحریر از قلم : آصف شہزاد ( مینگورہ سوات )

تبصرے

comments

13ستمبر
IMG_3945.JPG

اردو ہے جس کا نام !!!

"کمرشل لبرلز" کو اردو زبان کی نفاذ ہضم نہیں ہورہی لہذا فیس بک سمیت دیگر سوشل میڈیا پر طرح طرح کی پوسٹیں لکھ کر لوگوں کو اردو زبان سے بدظن کرنے کی جان توڑ اور بھرپور کوششیں کررہے ہیں۔ کبھی "گول کیپر" کی مثال دیتے ہیں تو کبھی "ٹیوب لائٹ" کی لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ یہ بیچارے اپنی بات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پہنچانے کیلئے اردو ہی کا سہارا لے رہے ہیں میرا مطلب ہے کہ اردو کی مخالفت میں جو کچھ بھی لکھ رہے ہیں اردو زبان ہی میں لکھ رہے ہیں تو اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے اردو کی اہمیت پر؟؟

 دیکھئے بھئی۔۔۔!!

اردو میں الفاظ کو جذب کرنے کی انتہائی صلاحیت موجود ہے لہٰذا ایسے مثالیں دینے والوں کو ادب کیساتھ عرض ہے کہ جس طرح آپ مدرسہ کو اردو میں بھی "اسکول" لکھ کر اور بول کر قبول کرچکے ہیں "مطب" کو ہسپتال لکھتے اور بولتے ہیں اور ریڈیو اور ٹیلی ویژن کو بھی قبول کرچکے ہیں تو بالکل اسی طرح "گول کیپر" کو بھی "گول کیپر" یا "ٹیوب لائٹ" کو ٹیوب لائٹ ہی لکھا اور بولا کریں انشاءاللہ کوئی آپ پر فتوی لگانے کی جسارت یا جرأت نہیں کرے گا۔

اس کے علاوہ آج ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ویب سائٹ پر اردو کی مخالفت میں ایک خبر پڑھنے کو ملی جس میں لکھا تھا کہ اردو کو اگر سرکاری زبان کے طور پر نافذ کردیا گیا تو عدالتی کاروائی کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ سارا عدالتی ریکارڈ انگریزی زبان میں ہے اور اس ریکارڈ میں لاکھوں ایسے حوالے ہیں جوکہ روزانہ کی بنیادوں پر گاہے گاہے وکلاء اور عدالتی عملے کو عدالتی کاروائی میں درکار ہوتے ہیں۔ 

پہلے تو میں مذکورہ نشریاتی ادارے بی بی سی کو کو یہ بتانا چاہونگا کہ اگر اردو اتنی ہی بے کار زبان ہے تو برائے مہربانی آپ اپنا اردو سروس فوری طور پر بند کریں۔ 

دوسری بات یہ کہ اگر عدالتی ریکارڈ ملزم یا مدعی کی سمجھ سے بالاتر ہو تو لعنت ہو ایسی ریکارڈ پر !!

سچ پوچھئے تو اردو زبان سے سارا مسلہ ان "بابُو" لوگوں کو ہے جو کہ عدالتوں اور سرکاری دفاتر میں انگریزی بیچتے رہتے ہیں اور انگریزی ہی ان کا ذریعۂ معاش ہے اورعدالتوں اور دیگر سرکاری دفاتر میں بیٹھے غیر سرکاری لُٹیروں کو بھی اردو کے نفاذ سے خار ہے جوکہ ایک ایک کاغذ کیلئے غریبوں کی دوڑیں لگواتے ہیں اور کبھی فوٹو سٹیٹ کے بہانے تو کھبی کاغذ کے بہانے اپنا خرچہ پانی نکالتے ہیں۔ 

گاؤں کے کسی مزدور کو اگر اپنے حق کے مطالبے کیلئے درخواست لکھنی ہو تو اُسے پورے گاؤں میں کوئی ایسا شخص دستیاب نہیں ہوتا کہ اس کی مدد کرے اور اس کے لئے مطلوبہ درخوست لکھے لہٰذا چار و ناچار وہ ان "بابُو مافیا" کے ہتھے چڑھ جاتا ہے اور دو دن کی مزدوری کو ایک درخواست کیلئے ضائع کرتا ہے یہی نہیں بلکہ آج کل تو سرکاری دفاتر میں انگریزی دانوں کا راج ہے اور کاغذات میں ایسے ھیرا پھیری کرتے رہتے ہیں کہ فیصلے بھی زیادہ پیسے دینے والوں کے حق میں ہوتے ہیں۔

اور تو اور انگریزی ہی کے بل بوتے پر مقدمات کو طول دیا جاتا ہے کیونکہ عوام کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ جج صاحبان اور وکلاء کونسی اور کس قسم کی کاروائی فرمارہے ہیں۔

بلکہ جسٹس کاظم ملک کے مطابق آدھے سے زیادہ مقدمات ایک پیشی میں ختم کئے جاسکتے ہیں اور اور قتل جیسے سنگین مقدمات کے فیصلیں بھی تین پیشیوں میں سُنائے جاسکتے ہیں لیکن اُن کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو وکلاء کی اکثریت بھوکی مر جائیگی۔

قارئیں کرام ۔۔!!

اگر عوام کو کاغذات اور دفتری کاروائی کی خود سمجھ آئیگی تو ان لوگوں کے کاروبار پر بے حد اثر پڑے گا یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ قومی زبان میں "گول کیپر" اور "ٹیوب لائٹ" جیسے الفاظ کے ترجمہ کے مضحکہ خیز مثالوں کی تخلیق کرتے ہیں اورقومی زبان کے خلاف "کمرشل لبرلز" کو تضحیک کے مواقع فراہم کررہے ہیں۔  

حالانکہ تُرکی اور چین کی ہی مثال لے لیں انہوں نے بھی سرکاری طور اپنے قومی زبانیں نافذ کردی ہیں۔ 

تو مجھے بتایا جائے کہ ہے کوئی جو ان قوموں کو ترقی کرنے سے روکے؟

انہوں نے بھی "گول کیپر" اور ٹیوب لائٹ" جیسے الفاظ کے متبادل الفاظ ڈھونڈ لئے ہونگے جبکہ ان قوموں کی زبانیں اتنی جاذب ہرگز نہیں ہیں جتنی کہ اردو جاذبِ الفاظ زبان ہے۔ 

اکی بات اور !!

اردو میں بھی ایسے کئی الفاظ ہیں جن کا انگریزی میں ترجمہ نہیں کیا جاسکتا جیسے کہ تایا ، ماموں ، چچا ، بھانجا ، بھتیجا ، وغیرہ اور ان الفاظ کا استعمال اور ضرورت "گول کیپر" اور "ٹیوب لائٹ" کی بہ نسبت ہمارے دفاتر میں زیادہ بھی ہے کیونکہ یہ الفاظ ہمارے معاشرے کی ترجمانی کرتے ہیں۔

لیکن بد قسمتی سے سرکاری زبان کے طور ہم پر مسلط کرنے کیلئے ایسی زبان کا انتخاب کیا گیا ہے کہ جس میں ہمارے معاشرے کے مستقل اقدار کا سرے سے تصور ہی نہیں تو بھلا ہم اردو کی نفاذ کی تائید کیوں نا کرے ؟؟؟ 

آخر میں "اقبال اشعر" صاحب کی ایک نظم ملاحظہ کیجئے۔۔!!

اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی 

میں میر کی ہم راز ہوں غالب کی سہیلی 

دکن کے ولی نے مجھے گودی میں کھلایا 

سودا کے قصیدوں نے میرا حسن بڑھایا 

ہے میر کی عظمت کہ مجھے چلنا سکھایا 

میں داغ کے آنگن میں کھلی بن کے چنبیلی 

غالب نے بلندی کا سفر مجھ کو سکھایا 

حالی نے مروت کا سبق یاد دلایا

اقبال نے آئینۂ حق مجھ کو دکھایا

مومن نے سجائی میرے خوابوں کی حویلی 

ہے ذوق کی عظمت کہ دیے مجھ کو سہارے 

چک بست کی الفت نے میرے خواب سنوارے 

فانی نے سجائے میری پلکوں پہ ستارے

اکبر نے رچائی میری بے رنگ ہتھیلی 

کیوں مجھ کو بناتے ہو تعصب کا نشانہ 

میں نے تو کبھی خود کو مسلماں نہیں مانا 

دیکھا تھا کبھی میں نے بھی خوشیوں کا زمانہ

اپنے ہی وطن میں ہوں مگر آج اکیلی​

 

تحریر : آصف شہزاد ( مینگورہ سوات )

تبصرے

comments

28اگست
IMG_3640.JPG

تم بھول گئے نا۔۔۔۔!!

آخر آپ بھول ہی گئے کہ ضلع قصور میں تین سو کے قریب بچوں کے کیساتھ جنسی درندگی ہوئی تھی اور آپ بھول گئے ہونگے کہ اس دلخراش واقعے پر آپ لوگوں کی غیرت نے جوش بھی کھایا تھا۔۔۔؟؟

اور واقعے کے خبریں آتے ہی پہلے روز سے آپ لوگوں کا انتہائی رد عمل بھی سامنے آیا تھا۔!!

آپ بھول گئے ہیں کہ آپ لوگوں نے زمین و آسمان سر پہ آٹھا لیا تھا۔۔!!

آپ ہی لوگوں نے پنجاب حکومت اور پولیس کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرائے۔۔!!

آپ ہی لوگوں نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچادی ۔۔!!

آپ ہی لوگوں نے میڈیا کو مجبور کیا اس معاملے کو کوریج دینے کیلئے۔۔!!!!

آپ ہی لوگوں نے مطالبات کئے کہ ۔۔۔!!!

قصور کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر اُٹھایاجائے۔ 

قصور کے قصور واروں کو سیاسی مداخلت کی پرواہ کئے بغیر سخت سے سخت سزا دی جائے۔ 

متاثرین کے دکھوں کا آزالہ کیا جائے۔

متاثرین کو انصاف اُن کی دہلیز پر دیا جائے۔

اس معاملے کو سیاسی چالبازیوں سے ماورا ہرصورت نتیجے پر پہنایا جائے۔

انصاف کے تقاضوں کو پامال ہونے سے بچایا جائے۔

اور اگر عدلیہ سیاسی مجبوریوں کا شکار ہے تو پاک آرمی کو اپیل کی گئی کہ فوجی عدالت اس معاملے میں مداخلت کرے۔

بھائی ٹھیک ہے۔۔!!

کہ آپ لوگوں نے جو کیا بہت اچھا کیا اور ایسے ہی کرنا چاہئے تھا کیونکہ ظلم کے خلاف بروقت آواز اُٹھانی چاہئے۔

اور سچ کہوں تو آپ لوگوں کا موثر رد عمل مسلے کو اجاگر کرنے میں انتہائی نتیجہ خیز رہا۔   

کیونکہ آپ لوگوں کے رد عمل کا ہی نتیجہ تھا کہ ایک ہی دن میں تمام بین الاقوامی تنظیمیں بشمول نجی حلقیں اور مواصلاتی ادارے حرکت میں آگئے تھے۔ 

آفرین ہے جناب آفرین !! اور شاباش ہے تم لوگوں کو ۔۔۔!!!

 لیکن ٹہرو اور سُنو۔۔۔!!!

غور سے سُنو کہ کیا قصور کے واقعۂ پر صرف واویلا کرنا ہی کافی تھا یا مجرموں کو سزا دلوانے تک جدوجہد بھی مقصود ہے؟؟ کیا یہ واقعہ ہم سب کیلئے لمحۂ فکریہ نہیں ؟ کیا سر جوڑ کر لائحہ عمل مرتب کرنے کا مقام نہیں کہ متاثرین کو انصاف ملکر ہی رہیگا؟؟ کیا یہ آپ کے ضمیر کا فیصلہ ہے کہ مجرموں کو "بِکاؤ" پولیس اور "ملوث" حکومت کے حوالے کردیا جائے؟؟ کیا آپ کا یہی رویہ اس قابل ہے کہ مسائل کے حل میں مثبت کردار ادا کرسکے؟؟ 

آپ لوگ معاشرتی مسائل کو بھی معمول کے رسم و رواج سمجھ کر "نبھاتے" ہو حالانکہ معاشرتی مسائل کا حل ڈھونڈنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے! 

قصور واقعے پر بھی آپ لوگوں نے بالکل کسی پرائے محلے دار کی فوتگی جیسا رویہ اختیار کیا۔ مطلب قبر تک سب نے شرکت ضروری سمجھی اور پسماندگان کا حوصلہ بڑھانے کے بجائے اُن کو حاضری بھی لگائی مگر دفن ہوتے ہی اپنی دنیا اپنے رنگ !! "ھنی سنگھ" کے گانے اور "فیس بک" پر حدیثوں اور اقوال کی شیئرنگ !!

مجھے ایک بات بتاؤ۔۔!!!!

اگر معاشرتی مسائل پر تم لوگوں کا رد عمل پائدار ہونے کے بجائے جذباتی ہوتا ہے تو کیوں کرتے ہو رد عمل؟؟ مجھے یہ بتاؤ کہ تم لوگ اتنا شور کیوں مچاتے ہو؟؟ جب تم ثابت قدم ہی نہیں رہ سکتے تو آگے کیوں بڑھتے ہو ؟؟ جب تم کو اپنی عیاشیوں سے فرصت نہیں تو آواز کیوں اُٹھاتے ہو ؟؟ جب تم میں ظلم کے خلاف لڑنے کی توان اور قوت نہیں تو جوش میں کیوں آتے ہو؟؟ جب تم کو کلمۂ حق کہنے کا حوصلہ نہیں تو بہادری کی اداکاری کیوں کرتے ہو؟؟جبکہ تمہاری غیرت خصی ہوچکی ہے تو جرأت کیوں کرتے ہو ؟؟جب تم مخلص ہی نہیں ہو تو پارسا بننے کا فائدہ ہی کیا؟ 

کہاں گیا وہ احتجاج ؟ بھول گئے نا۔۔۔!!!  

دراصل آپ لوگ کبھی مخلص ہی نہیں ہوتے بلکہ آپ لوگوں کو شور مچانے کیلئے کوئی نہ کوئی موضوع درکار ہوتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آپ سیاسی خرمستیوں میں مست اپنی اپنی سیاست چمکانے کیلئے ہی معاملات اٹھاتے ہو ! اور پھر اپنی خود ساختہ دانشوری جمانے کیلئے واویلا کرتے ہو یا اپنی دلفریب پارسائی دکھانے کیلئے لعن و تشنیع کرتے ہو۔۔۔!! 

ایک بات اور ۔۔۔!!! 

کیا آپ کو اندازہ ہے کہ آپ لوگوں کے احتجاج سے اُن غریبوں کتنا حوصلہ بڑھا ہوگا ؟؟ ظلم کیخلاف ثابت قدم رہنے کیلئے وہ کتنے دلیر بنے ہونگے؟؟

ارے اندازہ تو لگائیں کہ کتنے خواب دیکھے ہونگے اُن غریبوں نے؟؟ کتنا اطمنان ملا ہوگا ان لوگوں کو کہ اللہ تعالٰی نے اُن کی آہ و فریاد سُن لی ؟؟ ظالم کے سامنے سینہ چھوڑا کرنے کی کتنی قوت اور ہمت ملی ہونگی ؟؟ انصاف ملنے کی امید پر اُٹھتے گُرتے کتنی دعائیں دی ہونگی تم لوگوں کو ؟؟

لیکن بے سود ۔۔!!!!!

اور آپ اندازہ لگائیں کہ اُن متاثرہ بچوں کی کیا کیفیت ہوئی ہوگی جوکہ ایک طویل مدت سے نفسیاتی کشمکش کے شکار ہیں !!

بالکل ایسے ہی نا۔۔!!! جیسےآپ کا بچہ روتے ہوئے اور ھچکیاں لیتے ہوئے گھر میں داخل ہوتا ہے اور آپ کو موجود پاکر دوڑتے ہوئے آپ سے لپکتا ہے اور آپ سے گویا ہوتا ہے کہ فلاں کا بیٹا مجھے مارتا ہے اور آپ کا بازو پکڑ کر اس امید پر اپنی ھچکیوں اور سسکیوں پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے کہ اب میرا "ابو" حساب برابر کردیگا۔

لیکن قومی رویے نے قصور کے بچوں کی ھچکیاں اور سسکیاں دُگنا کردی۔۔۔!!!

تو اب یہ کہ۔۔!!

اپنی اپنی دنیا میں مگھن ، ذہنی عیاشی کے سرشاریوں میں گُم ، خودپسندی کے سُریلے مدُھرلے میں مست ، فیس بکی غیرت کے بے تاج بادشاہ ، قومم پرستی کے دلیراور بہادر سپوت ، کمزور حافظے والی جذباتی قوم سے مخاطب ہوکر میں اتنا ہی کہونگا کہ ۔۔۔!!

"دل صاحبِ اولاد سے انصاف طلب ہے"

تحریر : آصف شہزاد ( مینگورہ سوات )

 

تبصرے

comments

© Copyright 2015, All Rights Reserved