Author: Asif Shahzad

Writer | Blogger | Photographer | Pakistani
11مئی
IMG_3539-0.jpg

ماں کا عالمی دن !!

سچ پوچھئیں تو میرے لئے یہ مدر ڈے یا ماں کا عالمی دن کسی گالی سےکم نہیں !! 

بھئی !!! تین سو پنسٹھ دنوں میں واحد لاشریک ایک ہی دن ماں کے نام کردینا اور وہ بھی خالی خولی سوشل میڈیا پیغامات کی حد تک ؟

لاحولہ ولا قوۃ

بھلا یہ بھی کیا بات ہوئی کہ ہم کو اپنی مستقل اقدار کے ہوتے ہوئے بھی فرنگیوں کے چونچلے منانے میں ذرا بھی شرم محسوس نہ ہوتی ؟؟

ارے لالا ! ان فرنگیوں کی طرح سال میں ایک دن ماں کے نام کرکے ماں کی ممتا کا مذاق اُڑانا ہے !

اور ممتا کا یہ مذاق ایسے اُڑان بھرتا ہے جیسے شوکت حاجی صاحب کی پتنگ !

ارے یہ فرنگی کون ہوتے ہیں ہم کو ماں کی محبت سکھانے والے؟ اور ہاں اگر وہ ماں کا دن مناتے ہیں تو مناتے رہے !

 ان کی مرضی کہ اُن پہ کوئی زور زبردستی نہیں ہے ہماری !

مگر ہم پر ماں کے عالمی دن کا رعب قطعی مسلط کرنے کی ضرورت نہیں۔  

کیونکہ ہمارے ہر دن کا آغاز ماں باپ کے نام سے ہوتا ہے اور انہی ناموں پہ اختتام پزیر ہوتا ہے تب ہی کہی جاکے آرام ملتا ہے ہمیں۔ 

از : آصف شہزاد مینگورہ سوات  

Writer | Blogger | Photographer | Pakistani
30اپریل
IMG_2285.JPG

 تلخ زندگی سے ایک تلخ دن "یومِ مزدور"

 

 تلخ زندگی سے ایک تلخ دن "یومِ مزدور"

عزیزانِ من !!
یہ گزشتہ سال کا لکھا ہوا مضمون ہے جو کہ کچھ وجوہات کی بنا پر مکمل نہ ہونے کی وجہ سے شائع نہ ہوسکا تھا اور میں نے صرف اپنے فیس بک وال پہ لگایا تھا آج ایک بار پھر یوم مزدورکے موقع پر کچھ لکھنے کا سوچا تو ایک سال سے پڑے اس ادھورے مضمون کی مقدار بڑھاکر اس کو مکمل کیا۔ 
لہٰذا قارئیں کرام کے لئے اس درخواست کے ساتھ پیش خدمت ہے کہ مضمون کے مندرجات کو غور سے پڑھا جائے !!
آج یوم مزدور كے نام پر چهٹى منانے كا دن ہے گويا آج مزدور كى دیہاڑى لگنے كا امكان بہت كم ہے
حالانكہ آج كى مزدورى كے پيسوں كى ضرورت مہينے كے باقى دنوں كى بہ نسبت انتہائى زياده ہے.
آج مہينے كى يكم تاريخ ہے۔ يعنى آج مزدور نے گهر كا كرايا بهى دينا ہے۔ بچوں كی سكول فيس بهى بهرنی ہے اور گهر ميں گھی آٹا بهى ختم ہے۔ 
يہ سارے كام ايک دن كى مزدورى ميں تو ناممكن ہے ليكن مزدور كيلۓ ايک دن كى دهياڑى  خراب ہونے سے ان ميں پانچ سے چھ دن كى ايڈجسٹمنٹ تاخير ہوسكتى ہے جوكہ باعث تشويش ہے۔ يعنى مزدور كيلۓ مئى كے مہينے كا پہلا ہفتہ تلخ زندگى كا تلخ تر مرحلہ ہوتا ہے۔ 
كل ايک مزدور سے يكم مئى كى چهٹى كے حوالے سےبات ہورہى تهى تو اس نےبڑى ساده مگر جامع بات كہى !!! فرمانے لگے 
"مزدور كى مزدورى خراب كرنے كيلۓ مزدوروں كا دن منايا جاتا ہے"
 اس كا مطلب تها كہ اگر اس مهٹى بهر اشرافيہ اور سياسى ٹولے كا ہمارے حقوق كيلۓ كسى قسم كا جد و جہد نہيں تو خالى خولى يوم مزدور منا كر نعروں و بهڑكوں سے ہمارى ايک دن كى مزدورى كيوں خراب كرتے ہيں.
عزیزان من  !!
سوچتا ہوں کہ صرف دنیا پرست ہی نہیں بلکہ ایسے مذہبی سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کی بھی اس ملک میں کمی نہیں جن کے ہاں نفل كے نماز تو بہ كثرت پڑهے جاتے ہيں بے شمار عمرے و حج كۓ جاتےہيں رمضان ميں اعتكاف اور ختم شريف كے اہتمام كۓ جاتے ہيں لیکن ان کے ہاں کام کرنے والے مزدوروں کے اوقات بہت تلخ ہیں اور تو اور ايسے سرمایہ دار لوگ بهى ہيں ہمارے معاشرے ميں جو ہر نمازِجمعہ كيلۓ پاكستان سے مسجد نبوى سعودى عرب بذريعہ ہوائى جہاز جاتے ہيں اور رات كو ہی واپس وطن پہنچتےہيں۔ ان لوگوں كے فيكٹريوں كے گيٹ كے اوپر اپنے پرہیز گار اور متقی ہونے کے اشتہار کے طور پر اسلامی كلمات تو ضرور لكهے ہوتے ہيں ليكن فيكٹرى كے اندر انسانوں سےجانوروں جيسا سلوک ہوتا ہے ان كى فيكٹرى كا مزدور دوائى كى استطاعت نہ ہونے كى وجہ سے تو مر جاتا ہے۔ لیکن یہ لوگ مزدور کے حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے لاكهوں روپے مسجدوں اور مدرسوں كو چنده ميں دیدتےہیں کیونکہ بدلے میں مولوی صاحب اس کے لئے ایک اشتہاری مہم چلاتے ہیں جوکہ اس کے کاروبار میں مزید ترقی کے لئے نسخۂ اکثیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ 
 حالانكہ….!!!  
 اسلام ہی وہ نظام ہے جس نے درس دیا ہے کہ "مزدور کی مزدوری اس کے پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔ مزدور پر اتنا بوجھ نہ ڈالو جس کو اٹھانے کی وہ طاقت نہیں رکھتا ۔ مزدور کو اس سے کچھ زائد بھی دے دیاجائے جو آپ نے اسکے ساتھ طے کیا ہے".
اور اگر ہم اس سے بهى اچها مسلمان بننا چاہے تو…!!
اسلام کا بنیادی فلسفہ ہے كہ
کہ ضرورت سے زیادہ دوسروں کو دو اور محض ضرورت کے مطابق خود پر خرچ کرو۔ 
(Quran _2: 219)
اگر چہ حکومت نے مزدور کی ماہانہ تنخواہ بارہ ہزار روپیہ مقرر کردی ہے مگر ستم یہ ہے کہ یہ قوانین صرف کاغذات کی حد تک محدود ہیں !!
حکومت نے مزدور کے حقوق کے قوانین کو لاگو کرنے کی کبھی  زحمت نہیں کی اور مزدوروں نے بھی اپنے حقوق کے بارے میں جاننے کی کبھی کوئی کوشش نہیں کی اور اگر کسی مزدور کو اپنے حقوق کا پتہ بھی ہے تب بھی وہ خاموش ہے کیونکہ اُسے یہ بھی پتہ ہے کہ زبان کھولتے ہی اس کے گھر کا چولہا ٹھنڈہ ہوسکتا ہے کیونکہ جب بھی کسی مزدور نے متعلقہ سرکاری ادارے کو تنخواہ یا اوقات کار یا کسی اور حق تلفی کی شکایت لگائی ہے تو وہی آفسر آکر فیکٹری کے مالک یا صنعتکار سے کہتا ہے آپ کا فلاں مزدور آیا تھا شکایت کرنے اب آپ حکم کریں اس کا کیا کیا جائے؟ 
لہٰذا آفسر اپنی مُٹھی تو گرم کرلیتا ہے لیکن مزدور کے گھر کا چولہا ٹھنڈہ ہوجاتا ہے۔ 
اور سارے سرمایہ دار یا صنعتکار ایسے بھی نہیں ہیں بلکہ ان میں کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جوکہ مزدور کو واقعی ماہانہ تنخواہ حکومت کی مقرر کردہ یعنی بارہ ہزار روپے دیتے ہیں لیکن اُن سے کام آٹھ گھنٹے کے بجائے بارہ گھنٹے لیا جاتا ہے اور کچھ سرمایہ دار یا صنعتکار ایسے بھی ہیں جو مزدور کو تنخواہ بھی بارہ ہزار روپے دیتے ہیں اور کام بھی آٹھ گھنٹے لیتے ہیں۔ 
لیکن آپ یہ ہرگز نہ سمجھئیں کہ یہ اچھےلوگ ہیں۔ ہوسکتا ہے ان میں کچھ خدا ترس اچھے لوگ بھی ہو لیکن اکثریتی طور پر یہ سلوک ان کی مجبوری ہوتی ہے کیونکہ یہ لوگ اصل میں ایکسپورٹ کا کام کرتے ہیں اور باہر ممالک کے کمپنیوں کے ساتھ ان کے معاہدے اسی شرط پر طے ہوتے ہیں کہ جس فیکٹری میں مال بن رہا ہے آیا اس کے مزدوروں کے حقوق پورے ہورہے ہیں یا نہیں اور معاہدہ کرتے وقت زبانی طور ہاں یا ناں سے کام نیں چلتا بلکہ باقائدہ طور کاغذات درکار ہوتے ہیں جیسا کہ فیکٹری میں پڑاتنخواہ رجسٹرڈ اور اوقات کار کا رجسٹرڈ اس کے ساتھ تعطیل سرٹیفیکیٹ ہوگیا اور شائید اور بھی بہت سارے کاغذات ہو جس کے بارے میں مجھے زیادہ معلومات نہیں ہیں۔        
جب تک مزدروں کے حقوق کے لئے سرکاری طور پر کسی ادارے کو پابند اور فعال نہیں بنادیا جاتا !
اور متعلقہ ادارے کے ضمیر فروش اور ایمان فروش عملہ کے خلاف قانونی کاروائی کرکے کیفر کردار تک نہیں پہنچادیا جاتا !!
 اور ان کے بدلے ایماندار اور خدا ترس عملہ جو کہ مزدوروں کو ان کے حقوق دلوانا اپنا فرض اور عبادت سمجھتے ہو ایسے لوگوں کو  نہیں لایا جاتا !!
 مزدوروں کے مخلص راہنماؤں کی طرف سے تنظیم سازی کا مرحلہ شروع نہیں ہوتا !!
مزدور اپنے حقوق کے بارے معلومات حاصل نہیں کرتا !!
سماجی طور پر صاحب مرتبہ اور صاحب طاقت لوگوں کے ساتھ ساتھ اہل قلم جب تک مزدوروں کے حقوق کے لئے اواز بلند نہیں کرتے۔ 
تو سال میں ایک دن مزدوروں کے حقوق کےلئے رونا بے کار ہے۔ 
اور طے ہے کہ مزدوروں کا استحصال اس طرح زور پکڑتے ہوئے جاری رہیگا مزدور کا بیٹا بڑا ہوکر مزدور ہی رہیگا اور بیٹے کا بیٹا بھی مزدور  !!
Writer | Blogger | Photographer | Pakistani
24اپریل
IMG_2260-0.JPG

ناہمواریاں

زندگی ای۔ سی۔ جی ECG کی اونچی نیچی ، تیڑی ترچی لکیروں کی طرح اُتار چڑھاؤ کا ہی نام ہے کھبی عروج تو کبھی زوال !، کبھی ہار تو کبھی جیت !، کبھی بلندی تو کبھی پستی !
غرض زندگی اور ای۔ سی۔ جی ECG دونوں کی لکیریں سیدھی ہوتے ہی موت واقع ہوجاتی ہے۔ 
اسلئے زندگی کے اُتار چڑھاؤ سے گھبرائے بغیر حالات کا مردانہ وار مقابلہ ہی زندہ ہونے کی نشانی ہے۔ 
#آصف_شہزاد
Writer | Blogger | Photographer | Pakistani
17اپریل
IMG_2212.JPG

بھئی رہنے دیں ڈِگری وِگری !!

بھئی رہنے دیں ڈِگری وِگری !!
____________________________
کسی نے خوب کہا ہے کہ ڈگریاں بہر حال صرف تعلیمی اخراجات کی رسیدیں ہوتی ہیں اصل کام تو علم اور عقل و شعور رکھنے والے کر جاتے ہیں۔
جیسا کہ سٹیو جوبز (steve jobs)
یا ویلیم شیکسپئیر کی ہی مثال لے لیں جو کہ باقاعدہ طور پر ڈگری یافتہ تو نہیں تھےلیکن انہوں نے جو کر دکھایا وہ کسی سے ڈھکا چُپا نہیں بلکہ سب کو معلوم ہے اور پوری دنیا اُنہیں جانتی ہے۔ 
اور صرف یہ دونوں ہی نہیں بلکہ ایسے اور بھی بہت سارے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے ڈگریاں نہ ہوتے ہوئے دنیا بدل ڈالی !!
 بغیر ڈگریوں کے مختلف شعبہ جات میں ایسے انقلاب برپا کردئے کہ آج تک پوری دنیا ان کے کئے گئے کام سے فیضیاب ہورہی ہیں۔  
 اور جیسا کہ سب کو معلوم ہونا چاہئے کہ عقل و شعور کی کوئی ڈگری ہی نہیں ہوتی اور نہ ہی عقل و شعور کا کوئی پیمانہ ہوتا ہے !!
اس کے ساتھ ساتھ دوسری بات یہ ہے کہ ڈگری جعلی بھی تو ہوسکتی ہـــــے !
بلکہ میرے ایک دوست کے مطابق اصلی اور جعلی ڈگریوں کی بہت سی اقسام مارکیٹ میں آچکی ہیں جوکہ مندرجہ ذیل ہیں۔ 
* ایک ڈگری وہ ہے جو باقاعدہ تعلیم کے ساتھ تسلیم شدہ اصلی ادارے کی اصلی مہر والی ہے۔
* ایک ڈگری وہ ہے جو بغیر امتحان میں بیٹھے اصلی مہر کے ساتھ حاصل کی گئی ہے۔
* ایک ڈگری وہ ہے جو کسی جعلی ادارے کی جعلی مہر والی ہے ۔
* ایک ڈگری وہ ہے جو اصلی ادارے اور اصلی مہر کے ساتھ مگر بغیر روزانہ حاضری کے محض امتحان میں بیٹھ کر حاصل کی گئی ہے۔
*ایک وہ ڈگری ہے جو مکمل حاضری مگر مکمل نقل مار کر حاصل کی گئی ہے۔
* اور پھر ایک ڈگری وہ ہے جو اصلی تو ہے مگر ایسے بد دیانت اور بزدل انسان کے پاس ہے کہ جو اس کا استعمال مفاد عامہ کی بجائے ذاتی مفاد کے لیے ہی کرتا ہے۔
* ایک اور ڈگری وہ ہے جسکا حامل ملازمت حاصل کرنے کے بعد نجی تعلیمی اداروں پر کیے گئے اپنے اخراجات کی وصولی کے لیے تمام جائز و ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے۔
* ایک ڈگری وہ ہے جو تھرڈ ڈویژن بھی ہو تو خیر ہے لیکن  اگر ڈگری کا حامل اپنی طاقت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لے۔ پھر ایسے شخص کے آگے تو بڑے بڑے پی ایچ ڈی بھی پانی بھرتے ہیں۔ 
اسلئے ڈگریوں کے پٹاری رکھنے والوں سے عرض ہے کہ ڈگریوں کے پٹاری کو بے شک اپنے سر پہ اُٹھائے رکھو اور میری بات مانو تو دن میں کم از کم پانچوں اوقات پٹاری کو چاٹ بھی لگایا کرو لیکن ڈگریوں کے اس پٹاری کو دوسروں کی ذلت اور خود کے عزت کا ذریعہ ہرگز نہ بناؤ بلکہ کچھ ایسا کردکھاؤ کہ لوگوں کے دلوں میں خود بخود آپ کی عزت بڑھے۔۔۔۔۔۔۔!!!!
اور پاکستان میں تو ڈگریاں ٹماٹر کی قیمت پر دستیاب ہیں ایک صاحب کا تو سُنا ہے کہ ہر قسم کی ماسٹر ڈگری بمعہ سرکاری ریکارڈ کے تین لاکھ روپے میں بناکے دیدیتا ہے۔ 
ایک زمانہ تھا جب لوگ علم حاصل کرتے تھے لیکن اب ڈگریاں حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ ڈگری کے ہوتے ہوئے علم کی کیا اوقات ؟؟
اگر ہمارے ملک میں غریبوں کے بچے ڈگری کے حصول کے لئے جان لڑاکر ڈگری حاصل بھی کرلے تب بھی ہم پر قابض اشرافیہ قطعاً اس کے لئے تیار نہیں کہ غریب کے بچے کو اعلٰی عہدہ تو درکنارادنیٰ درجے کی نوکری ہی عطا کردیں۔
اس لئے ڈگریوں کے حصول کے باوجود ڈگری یافتہ غریب ذادوں سے جان چُڑانے کے لئے انٹری ٹیسٹوں اور پیشہ وارانہ امتحانات کے ذریعے جس طریقے سے ڈگریوں کی تذلیل کی جا تی ہے اس کے بارے میں آپ اُن سے پوچھئیں جو اِن تلخ مراحل سے گزر چکے ہیں۔ 
اس ملک میں ڈگری کی حیثیت اور معنی کو جو شخص صحیح سمجھا وہ ہے نواب اسلم رئیسانی جس نے ڈھنکے کی چوٹ پہ ببانگ دہل کہہ دیا تھا "کہ ڈگری تو ڈگری ہے چاہے اصلی ہو نا نقلی !!"
اب اگر دیکھا جائے اور سوچا جائے اور رئیسانی صاحب کے بے ڈھنگے اور نوابانہ انداز کو ایک طرف رکھتے ہوئے غور و فکر کے ساتھ شعوری طور پر سوچا جائے تو بات بہت ہی وزن دار کہی ہے اُنہوں نے!
مطلب پاکستان میں  کوئی عہدہ حاصل کرنے یا حکمران بننے کے لئے ڈگری یافتہ ہونا ضروری نہیں بلکہ طاقتور اور دولت مند ہونا ضروری ہے ان دو چیزوں کے علاوہ جتنے بھی مسائیل ہیں سب کاغذی مسائیل ہیں جوکہ مزید کاغذ استعمال کرکے حل کئے جاسکتے ہیں۔ 
میں تو کہتا ہوں پاکستان کو اس حالت پر لانے والوں میں زیادہ کردار ان ڈگری والوں کا ہی ہے جو کہ اپنی اعلٰی تعلیمی ڈگریوں کے بل بوتے پر وطن عزیز کو نوچ رہے ہیں اور انتہائی نااہل ہوتے ہوئے بھی ملک کے اختیار مند بنے بیٹھے ہیں۔
حالانکہ یہ ڈگریوں کا اچار ڈالے ہوئے غیر معیاری با اثر شخصیات معاشرے کے فلاح میں کوئی بھی مثبت کردار ادا نہیں کرسکتے !
لہٰذا میرا ذاتی مشورہ ہے کہ کسی کی عزت و ذلت کا فیصلہ ڈگری پر نہ کیا کرو بلکہ ہر انسان کے عقل و شعور کو دیکھو اور اس کی سچائی اور معاشرتی کردار کو دیکھو۔   
ورنہ ڈگری تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! چلیئے رہنے دیں ۔۔!!
تحریر : آصف شہزاد (مینگورہ سوات)
Writer | Blogger | Photographer | Pakistani
23مارچ
IMG_3461.JPG

یوم پاکستان پر خصوصی

وطن عزیز میں تئیس مارچ کو یوم پاکستان کے طور پر جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے آج کے دن کی خصوصیت یہ کہ اس دن محب وطن پاکستانی انتہائی پرجوش انداز میں یوم پاکستان مناتے ہوئے پاکستان اور پاکستان کے مسلح افواج پر مختلف پلیٹ فارمز مثلاً سوشل میڈیا وغیرہ کے ذریعے فخر کا اظہار کرتے ہیں اور یوم پاکستان کے حوالے سے مختلف سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔لیکن یہ صرف فخر کے اظہار کا دن ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ ہم اپنی تمام تر صلاحتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے وطن عزیز کی بقا اور سالمیت کے لئے کام کیا کریں اور پیارے وطن کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرانے کے لئے مل جل کر تعمیری سوچ کو اجاگر کرتے ہوئے کام کریں۔

جبکہ اس کے بر عکس پاکستان میں ایک ایسا ٹولہ بھی بستا ہے جن کو یوم پاکستان تو کیا پاکستان کے نام سے بھی نفرت ہےاور آج کے دن اس ٹولے کے تمام افراد کو قبض لاحق ہوجاتا ہے یہ ٹولہ جوکہ تعداد میں نہ ہونے کے برابر ہیں بلکہ یوں کہئے کہ انہیں ہاتھوں کی انگلیوں پر گِنا جاسکتا ہے۔

 مجھے انسان ہوتے ہوئے ان سے ہمدردی ہے اور دعا ہے کہ ان کی قبض کا آفاقہ جلد از جلد ہوجائے۔ 

اس کے ساتھ ساتھ آج کے دن کی کچھ اور بھی خصوصیات ہیں جیساکہ !!
•••پاکستان میں رہنے والے بعض لوگوں پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔

•••کچھ لوگ وہیسکی کے دو پیک چڑھاکر بھگت سنگھ کی یوم وفات کا واویلا کرتے ہیں۔ 

•••کچھ لوگ فوجی پریڈ اور دفاعی سازوسامان کی نمائش پر تنقید کرتے ہوئے اپنی خیالی سیکولر جمہوریت میں شدید درد محسوس کرتے ہیں۔ 

•••کچھ لوگ نسلی و لسانی تعصب کا والیوم بڑھاکر سوشل میڈیا پر حرامخوری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ پاکستان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔ 

کیونکہ پاکستان کو چلانے والے ان کے حمایتی بے غیرت ایزی پیسہ سیاست دان اور کارٹون نما صحافی ہرگز نہیں جو کہ وطن کو ٹکے ٹکے پر فروخت کرنے کیلئے تیار بھیٹے ہیں۔ 

بلکہ پاکستان کو چلانے والے الله کے شیر کوئی اور ہیں جو نہ بکنے والے ہیں اور نہ جکنے والے !!

جنہیں پتہ ہے کہ اس ملک مطلب ہے "لا الہٰ الالله"

•••از آصف شہزاد مینگورہ سوات•••

Writer | Blogger | Photographer | Pakistani
© Copyright 2015, All Rights Reserved