9اگست
IMG_3441.JPG

سانحہ پشاور کے بعد سانحہ قصور !

ضلع قصور میں تین سو کے قریب بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ویڈیوز کی فروخت کے بھیانک کھیل کا واقع کسی صورت بھی سانحہ پشاور سے کم نہیں۔۔۔!

فرق صرف اتنا ہے سانحہ پشاور میں بچوں کی طبعی موت واقع ہوئی جبکہ ضلع قصور میں بچپن کو ہی تار تار کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

ان بچوں کے ساتھ جو درندگی ہوئی وہ روزانہ کی موت کا ایک مستقل سلسلہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ زیادتی کے شکار بچے زندہ تصور کئے جارہے ہیں لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں تو ان بچوں کی زندگیاں تباہ کردی گئی ہیں اور ان کا نفسیاتی قتل عام ہوا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تار تار بچپن اور تار تار عزت کے ساتھ یہ بچے بڑے ہوکر زیادہ تر نفسیاتی مریض ہی بنیں گے اور صرف سانس لینے تک زندہ رہینگے بس!!!!

مبینہ زیادتی کے شکار بچے زیادہ تر پندرہ سال سے کم عمر ہیں اور تقریباً تمام غریب لوگوں کے بچے ہیں۔ مطلب نہ ان میں سرکاری عہدیداروں کے بچے ہیں اور نہ کسی لبرل گھرانے کے بلکہ سب کے سب بد قسمت غریبوں کے بچے ہیں۔

اور دوسری بات یہ کہ ملزمان میں کوئی داڑھی والا بھی نہیں ہے اس لئے ابھی تک سڑکوں اور چوراہوں پر موم بتیاں بھی روشن نہیں ہوئی بلکہ میرے خیال سے موم بتیوں والی "برباد" آنٹیاں اس گرمی میں اپنے قیمتی میک اَپ کی قربانی کیونکر دیں گی جبکہ اس فعل کے خلاف احتجاج کرنے سے اسلام مخالف تنظیمیں اور موم بتی مافیا کو اسلام کی کسی قسم کی بدنامی متوقع نظر نہیں آرہی تو کیا ضرورت ہے سڑکوں پر خوار ہونے کی ؟

مختصراً میں تو اتنا سمجھتا ہوں کہ اس قسم کے واقعات پر جب متاثرین کو انصاف نہیں ملتا تو انصاف زمین سے اُگنے لگتا ہے اور پھرکوئی نہ کوئی مُلا عمر انصاف دلانے کے لئے اُٹھتا ہے۔ 

اسلئے یاد رکھو کہ اگر تم انصاف نہیں دوگے تو پھر کوئی نہ کوئی مُلا عمر ضرور اُٹھے گا۔۔۔۔۔!!!

آصف شہزاد (مینگورہ سوات)

Writer | Blogger | Photographer | Pakistani

تبصرے

comments

Share this Story

About Asif Shahzad

Writer | Blogger | Photographer | Pakistani

© Copyright 2015, All Rights Reserved