17جولائی
IMG_3538.JPG

پیشوائیت کا سُرور !!!

میرا تو مشاہدہ ہے کہ مذہبی پیشوائیت کے نشے کا سُرور اقتدار کے نشے سے بھی کہی زیادہ ہے۔

کیسے ؟؟

بھئی وہ ایسے کہ جب سے سرکاری رویت ہلال کمیٹی وجود میں آئی ہے تب سے ہر رمضان شوال اور بکرا عید کو چاند کے مسلۂ پر قوم کو تقسیم کیا جاتا ہے گویا مفتی منیب صاحب اور مولانا پوپلزئی صاحب ہرگز ہرگز ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں !!!

پوپلزئی صاحب کے طریقۂ رویت ہلال کی تو روایت ہی یہی ہے کہ وہ کبھی دوسرے دن چاند دیکھنے کےلئے نہیں بیٹھتے بلکہ پہلے ہی رات کو قصہ خلاص!

یعنی اگر وہ پچس رمضان کو بھی رویت ہلال کیلئے بیٹھ جائے تو بھی پندرہ سے بیس شہادتیں موصول ہونی طے ہیں

پوچھو کیوں ؟؟؟

کیونکہ لگ بھگ دو سو سالوں سے رویت ہلال پر مسلط خاندانی پوپلزئی شہنشاہئت کبھی بھی وہ کسی کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں !!

اور ہر صورت میں حکومتی رویت ہلال سے پہلے اعلان پوپلزئی صاحب کے مذہبی خاندانی شہنشاہئت کو تقویت فراہم کرتا ہے یا یوں کہئے کہ پوپلزئی صاحب مفتی منیب کو غلط ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور اس بابت وہ کچھ بھی کر گزرنے کیلئے تیار ہے چاہے وہ قوم کو تقسیم کرنا ہی کوں نہ ہو !!

دوسری بڑی وجہ مفتی منیب صاحب کا تعلق بریلوی مسلک سے ہونا ہے اور پوپلزئی صاحب اس کے مخالفت میں چاند کو گُڈی کی طرح پہلے پکڑنا اپنی فتح تصور کرلیتا ہے حالانکہ میرے اندازے کے مطابق مفتی منیب صاحب کے باپ بھی چاند کو بریل میں نہیں روک سکتے بلکہ اگر چاند افق پر نمودار ہوجائے تو پورے پاکستان سے چند ہی سہی لیکن مختلف صوبوں کے مختلف علاقوں سے شہادتیں موصول ہونی چاہئے۔ 

ویسے آپس کی بات ہے لیکن مجھے تشویش کی حد تک فکرہے کہ ماہِ رمضان کے اواخر میں پوپلزئی صاحب کو شیاطین آزاد کرانے کی اتنی جلدی کیوں ہوتی ہے؟؟؟

از قلمِ آصف شہزاد ( مینگورہ سوات )

Writer | Blogger | Photographer | Pakistani

تبصرے

comments

Share this Story

About Asif Shahzad

Writer | Blogger | Photographer | Pakistani

© Copyright 2015, All Rights Reserved