28مئی
IMG_2503.JPG

سیاسی شعور سے گرد اُڑائی تک ۔۔۔!!!

  عزیزان من !

بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے لکھنے کیلئے بہت سارے موضوعات دستیاب تھے مگر میں ان مضوعات پر لکھنا ہی نہیں چاہتا تھا کیونکہ پہلے سے اخبارات میں اس حوالے سے روزانہ کے بنیادوں پر مختلف لکھاریوں کے دھڑادھڑ مضامین کی اشاعت کی ہی وجہ تھی کہ میرا دل اُٹھ سا گیا تھا اور کافی دنوں سے اس موضوع پر لکھنےسے قطعی گریزاں رہا۔ لیکن آج احساسات کی پیالی میں الفاظ نے ایسے مچلنا شروع کردیا کہ کچھ لکھنا ہی پڑ رہا ہے۔ 

 تو چلئیے ہم بھی انتخابات کی بساط پر اپنی قلم کی نوک سے چند الفاظ انڈیلنے کی کوشش کردیتے ہیں!!

عزیزان من !

جیسے کہ جب برسات شروع ہوتی ہے تو مختلف انواع و اقسام کے مینڈک ٹرٹر ٹرٹر کرتے ہوئے اپنی بلوں سے نکل آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اور اسی کے مصداق انتخابات کے موسم میں مبینہ طور پر چند باشعور لوگوں کے علاوہ مختلف انواع و اقسام کے امیدواران میدان میں اترتے نظر آتے ہیں۔ بلکہ اس دفعہ تو ایسے ایسے مشٹنڈو کے پوسٹر اور تصاویر دیکھنے کو ملے ہیں کہ !

لا حولہ ولاقوۃ  

کہا جاتا ہے کہ حالیہ الیکشن میں تو انتخابی مقابلوں کے ساتھ ساتھ مونچھوں کا بھی زبردست مقابلہ جاری ہے اور مونچھیں بھی ایسی کہ بچھو کی ڈنک کی طرح ڈرانے والی ! یقین جانئیےمونچھوں کے اتنے برانڈز آپ نے لوکل سی ڈی ڈراموں میں بھی نہیں دیکھے ہونگے جتنے اس لوکل الکشن میں نصیبِ نظر ہوئے ہونگے ! ہمارے علاقے میں تو شائد ہی کوئی ایسا شخص ہو جس کی بڑی مونچھیں ہو اور الکشن میں کھڑا نہ ہوا ہو بلکہ جی تو کرتا ہے کہ رستے میں جو بھی مونچھوں والا ملے تو فوراً اس سے دریافت کروں کہ بھئی کونسے سیٹ سے الیکشن لڑ رہے ہو ؟

عزیزان من !

پاکستانیوں کی اکثریت قصیدہ گو اور نوحہ فروشوں پر مشتمل ہیں یہ ایسی قوم نما ہجوم ہے جنہیں بچوں کی طرح کھلونوں سے بھی بہلایا جاسکتا ہے۔ ہر دفعہ انتخابات کے چار یا پانچ مہینے بعد بر سر اقتدار آنے والے حکمرانوں پر لعن طعن کرکے نوحہ کناں رہتے ہیں جبکہ گزشتہ حکمرانوں کے قصیدے سناتے نہیں تھکتے۔ 

فلاں زندہ باد فلاں مردہ باد !!

ایک مہینے سے ہمارے کینڈی کرش نوجوانوں نے جہاں علاقائی ڈیروں اور ھجروں میں دھوم مچا رکھی ہے اس سے کہیں زیادہ سوشل میڈیا پر گدھوں کی طرح گرد اُڑا رہے ہیں !!  

سوشل میڈیا کی دیواریں تو خیر رہنے دیجئے لیکن شاہراہوں اور گلی کوچوں کے دیواروں کو جتنا گندا کردیا گیا ہے مجھے نہیں لگتا کہ آسانی سے صاف ہوجائے یا کوئی صاف کرنے کی زحمت بھی ہی کریگا !!! کیونکہ انہی دیوارں پر دس یا بیس سال پرانے انتخابات کے باقیات بھی ابھی تک نمایاں ہیں۔ 

ستم یہ بھی ہے کہ پاکستانیوں کو سیاست دانوں کی مار کھاتے کھاتے ابھی تک عقل نہیں آئی بلکہ اس قوم نما ہجوم کی سیاسی شعور کا تو یہ حال ہے کہ ہر دفعہ ایک ہی طریقے سے اور ایک ہی بل سے ڈس لئے جاتے ہیں اور ائندہ کے لئے بھی وہی طریقۂ کار اور وہی "بل" کارآمد رہتا ہے۔  

گویا ان کو نمرود کی طرح بار بار چھتر کھانے سے راحت ملتی ہے !!

 بھئی مجھے تو ایک بات کی برابر سمجھ آگئی۔ !!

اور وہ یہ کہ ووٹ واقعی قیمتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک اور بات کی بھی برابر سمجھ آگئی ہے کہ اصل میں ووٹ ہی قیمتی ہے۔

میرا مطلب ہے کہیں ایسا نا ہو آپ ووٹ کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بھی اتنا ہی قیمتی تصور کرلو !

کیونکہ ایسا نہیں ہے بھائی ! آپ لوگوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں !! یعنی ووٹ کے ساتھ ووٹر کی ہرگز ہرگز کوئی قدر و قیمت نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کے پاس الیکشن کے بعد غریب عوام سے جان چُھڑانے کے طرح طرح کے طریقے پہلے سے موجود ہیں اور اگر کوئی نیا نیا سیاست میں قدم رکھتا ہے تو وقت کے ساتھ ساتھ دوسرے تجربہ کار پنڈتوں سے یہ طریقے آہست آہستہ سیکھ جاتا ہے۔ اور منتخب ہونے کے بعد ماجرہ بالکل الگ ہوجاتاہے۔   

اگر یہ ووٹ اتنا ہی قیمتی ہے کہ بڑے بڑے سیاستدانوں کو بھکاری کے سامنے بھی بھکاری بنادیتا ہے تو الیکشن کے بعد ووٹر پر کونسی بجلی گر جاتی ہے کہ کوئی نمائیندہ اسے جاننے تک سے انکاری ہوتا ہے !!

بار بار ان تجربات سے گزرنے کے باوجود کچھ لوگ اب بھی یہی کہتے آرہے ہیں کہ ووٹ میں بڑی طاقت ہوتی ہے حالانکہ میرا مشاہدہ اس سے بات بالکل مختلف ہے !! کیونکہ میں نے دیکھا ہے اور کئی بار دیکھا ہے اور اس دفعہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ ووٹوں سے زیادہ طاقت نوٹوں میں ہوتی ہے!

کیوں ؟

 کیونکہ جو نمائندہ زیادہ اخراجات اُٹھارہے ہوتے ہیں اس کو اتنی ہی حمایت مل رہی ہوتی ہے۔ اس کے دو وجوہات ہیں ایک تو اخراجات کی وجہ سے چرچہ بڑھ جاتا ہے اور مذکورہ نمائندے کو ووٹ نہ دینے والے بھی اسی چرچہ کو کامیابی کے واضح امکانات تصور کر لیتے ہیں لہٰذا چار و ناچار ایک ناکام امیدوار کے بجائے کامیاب امیدوار کے ساتھ ہو لیتے ہیں۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ الکشن کے دوران ووٹوں اور نوٹوں کی ادلی بدلی ہوتی رہتی ہے چاہے چوری چھپکے ہو یا چاہے بر ملا !!

قارئین کرام !

المیہ یہ ہے کہ ہم گلی کوچے پکی کرانے کے واسطے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں حالانکہ یہ کام منتخب نمائندوں کے بجائے مختلف این جی اوز اور دیگر خیراتی ادارے بہتر طریقے سے اور بہتر معیار تعمیر کے ساتھ انجام دیتے رہتے ہیں۔

تو اب اس قوم نما ہجوم کے افراد سے عرض ہے کہ سیاست دانوں کے جھنڈوں سے بنے سیاسی برانڈ کی ٹوپیاں ہی سہی ! لیکن اگر آپ کو کوئی ٹوپی پہنا رہا ہے اور آپ کو خوش فہمی ہورہی ہے تو آپ کو ائندہ بھی ٹوپی ہی پہنائی جائیگی۔ 

اس کے ساتھ ساتھ کینڈی کرش نوجوانوں سے انتہائی ادب اور تعظیم کے ساتھ عرض ہے کہ چند دن اور سہی لیکن گرد اُڑائی میں تاریخ رقم ہونی چاہئے !! 

چلتا ہوں ۔۔۔!!! الله حافظ ۔۔۔۔۔۔۔!!!!!

Writer | Blogger | Photographer | Pakistani

تبصرے

comments

Share this Story

About Asif Shahzad

Writer | Blogger | Photographer | Pakistani

© Copyright 2015, All Rights Reserved