17اگست
IMG_3527.JPG

اسلام کا علم اور جنرل حمید گل

اسلام کا علم اور جنرل حمید گل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ لوگوں کا جنرل صاحب پر بھونکنے کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ وہ فوت ہوچکے ہیں۔۔۔!!

إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔۔!

دوسری بات ۔۔۔۔۔۔!!!!! 

یہ وہی لوگ ہیں جو سوویت یونین کے آنے پر بغلیں بجارہے تھے اور خوشیاں منارہے تھے کہ سرخ ڈولی پہنچنی والی ہے۔

سرخ ڈولی سے ان کا مراد تھا کہ سرخ انقلاب یعنی روس کے راستے کمیونزم کا سرخ انقلاب آنے والا ہے اور یہ لوگ اس خوش فہمی میں بھی تھے کہ کمیونزم افغانستان میں داخل ہوتے ہی پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیگاجو کہ ان لوگوں کی خوش فہمی یا غلط فہمی تھی۔

یہی وہ لوگ تھے جو سوویت یونین کو افغانستان پر حملے کیلئے سہولتکار و مددگار بنےتھے۔ 

اور ان ہی لوگوں نے سوویت یونین کو خطے پر قبضہ کیلئے راستہ ہموار کرانے اور راستے کا تعین کرانے میں بھرپور مدد فراہم کی تھی لیکن شائد یہ لوگ بھول گئے تھے یا کہ پاکستانی افواج میں ایسے مجاھدین بھی ہیں جو کہ اسلام کے عَلم کو بلند رکھنے کےلئے پہاڑوں اور چٹانوں سے بھی ٹکراسکتے ہیں۔ 

یہ غــــــازی۔۔!! یہ تیرے پُراسرار بندے !

جنہیں تُو نے بخشا ہے ذوق خـــــــدائی !

دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا !

سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائــــی !

اور ہوا بھی ایسے ہی کہ جنرل حمیدگل صاحب اور ان کے ٹیم نے اسلام کے عَلم کو نیچے نہیں ہونے دیا اور ۔۔!!

بے خطر کُود پڑا آتش نمرود میں عشق ۔۔۔!!!

جنرل صاحب نے ایسی اسٹریٹجیک پالیسی مرتب کی کہ کمیونزم کے خواہاں افغانوں اور ان کے نام نہاد قوم پرست حامیوں کے خوابوں کو مٹی میں ملادیا اور سوویت یونین جیسے سپر پاور کو دن میں تارے دکھاکر تکڑے تکڑے کردیا اور روس کے غلامی میں قید اسلامی ریاستوں کو روس کے پنجے سے نکال کر غلامی سے آزاد کرایا۔  

اور پاکستان کے مجاھد افواج نےجنرل حمیدگل صاحب کی راہنمائی میں افغانستان کے سنگلاخ چٹانوں اور بیابانوں میں وہ جوہر دکھائے کہ سوویت یونین سرپٹ بھاگنے پر مجبور ہوگیا۔

لہٰذا ان بھونکنے والوں کو وہی روگ کھائے جارہا ہے کہ آئی ایس آئی نے اسلام کے مد مقابل کمیونزم کی ڈولی کو فاش فاش کرکے افغان کمیونسٹوں اور نام نہاد قوم پرستوں کے خوابوں کو چکناچور کردیا تھا۔ 

اب کمیونزم کے خواہاں یہ تھوڑے بہت باقیات ہی رہ گئے ہیں جوکہ بھونکتے رہتے ہیں لیکن ان کو بھونکنے دینا چاہئے ۔۔!! ان بیچاروں کا بھونکنا فطری ہے کیونکہ

یہ اپنی اَنا کی تسکین کیلئے بھونک رہے ہیں۔ 

ویسے بھی کمیونزم تو گیا تیل لینے ۔۔۔۔۔!!!!

تحریر : آصف شہزاد ( مینگورہ سوات)

 

تبصرے

comments

14اگست
IMG_3460-0.jpg

دم گھٹکو دم گھٹکو !!!

 

غور سے سُنو !!! 

آج کے دن مجھے کوئی سر و کار نہیں کہ بیان کرتا پھروں کہ پاکستان میں کیا کیا حرامخوریاں ہورہی ہے اور وطن عزیز کن کن معاشرتی ، سماجی ، اقتصادی اور سیاسی مسائل سے دوچار ہے کیونکہ مسائل ہر حال میں انسانوں کے ہی پیدا کردہ ہوتے ہیں۔ 

مثال کے طور پر اگر کوئی کلمہ پڑھتا ہے اور پھر حرامخوری کے لئے کمر باندھتا ہے تو اس میں کلمے کا کیا قصور ؟؟

بھائی میرے !! اس میں کلمے کا کوئی قصور نہیں بلکہ قصور اُس حرامخور کا ہے جو اپنے ذلیل کردار کی وجہ سے کلمےکی تذلیل کرتا ہے۔ 

 لہٰذا زمینی مسائل بہرحال ہر جگہ "حصہ بقدر جثہ" موجود ہوتے ہیں۔

اسلئے پاکستان پر قابض مُٹھی بھر اشرافیہ کو ہرگز "پاکستان" نہ سمجھا جائے بلکہ یہ تو پاکستان کی منہ پر کالک کے مترادف ہیں۔ 

دیکھو بھائی صاحب !!!

میں تو خوشی کے دن خوشی ہی مناتا ہوں اور آج فخر کے ساتھ خوشی کا مقام ہے بلکہ مجھے تو الله تعالٰی کا شکر ادا کرتے ہوئے فخر ہے کہ یوم آزادی کے پُر مسرت دن پر اکثریتی طور پاکستان ہی پاکستان نظر آرہا ہے۔ سوشل میڈیا سے لیکر وطن عزیز کے گلی کوچوں تک ، پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں سے لیکر سرکاری و پرائویٹ عمارتوں تک ہر جگہ سبز ہلالی پرچم کا بہار ہے اور وطن عزیز کے شاہراہیں اور گلی کوچیں سب کےسب سبز ہلالی پرچم کے بہار سے کھل کھلا اُٹھے ہیں۔ 

یہاں تک کے میرے فیس بک فرینڈ لسٹ میں کچھ افغانی بھائیوں نے بھی اپنے چہروں پر پاکستانی پرچم کا پینٹ کیا ہوا ہے سچ پوچئے تو مجھے آج سب سے زیادہ خوشی افغان بھائیوں کے اس اقدام پر سے ملی ہے کیونکہ انہوں قومیت کے فلسفے کو یکسر مسترد کرکے اسلامی بھائی چارے یعنی "اخوت" کو فوقیت دی ہے۔

بہر حال نظریہ پاکستان ہر موڑ پر اپنا رنگ دکھاتا رہےگا کہ پاکستان کا مطلب "لا الہ الالله" ہی ہے۔ 

اور اس کے ساتھ ساتھ خوشی کی بات یہ بھی ہے کہ پاکستان مخالف گنتی کے چند متعصب لوگوں کے ٹولے کو شدید قبض لاحق ہے۔

اور تمام کے تمام "دم گھٹکو دم گھٹکو" کے تکلیف دہ حالت پر ہیں۔ 

ان سے عرض ہے کہ دو چمچ چھلکا اسپغول پانی میں حل کرکے پینے سے کافی حد تک سے آفاقہ ہوجاتاہے۔  

اور آخر میں وطن عزیزسے محبت کرنے والے پاکستانیوں کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے اپنی محب وطنی کا اظہار اس انداز سے کیا کہ ملک دشمن عناصر کی اولادیں بھی جشن آزادی کی خوشیاں منانے میں پیش پیش نظر آنے لگی ہیں ۔۔۔۔!!!

قسم سے ۔۔۔۔۔!!!!!

تحریر : آصف شہزاد (مینگورہ سوات)

تبصرے

comments

9اگست
IMG_3441.JPG

سانحہ پشاور کے بعد سانحہ قصور !

ضلع قصور میں تین سو کے قریب بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ویڈیوز کی فروخت کے بھیانک کھیل کا واقع کسی صورت بھی سانحہ پشاور سے کم نہیں۔۔۔!

فرق صرف اتنا ہے سانحہ پشاور میں بچوں کی طبعی موت واقع ہوئی جبکہ ضلع قصور میں بچپن کو ہی تار تار کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

ان بچوں کے ساتھ جو درندگی ہوئی وہ روزانہ کی موت کا ایک مستقل سلسلہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ زیادتی کے شکار بچے زندہ تصور کئے جارہے ہیں لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں تو ان بچوں کی زندگیاں تباہ کردی گئی ہیں اور ان کا نفسیاتی قتل عام ہوا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تار تار بچپن اور تار تار عزت کے ساتھ یہ بچے بڑے ہوکر زیادہ تر نفسیاتی مریض ہی بنیں گے اور صرف سانس لینے تک زندہ رہینگے بس!!!!

مبینہ زیادتی کے شکار بچے زیادہ تر پندرہ سال سے کم عمر ہیں اور تقریباً تمام غریب لوگوں کے بچے ہیں۔ مطلب نہ ان میں سرکاری عہدیداروں کے بچے ہیں اور نہ کسی لبرل گھرانے کے بلکہ سب کے سب بد قسمت غریبوں کے بچے ہیں۔

اور دوسری بات یہ کہ ملزمان میں کوئی داڑھی والا بھی نہیں ہے اس لئے ابھی تک سڑکوں اور چوراہوں پر موم بتیاں بھی روشن نہیں ہوئی بلکہ میرے خیال سے موم بتیوں والی "برباد" آنٹیاں اس گرمی میں اپنے قیمتی میک اَپ کی قربانی کیونکر دیں گی جبکہ اس فعل کے خلاف احتجاج کرنے سے اسلام مخالف تنظیمیں اور موم بتی مافیا کو اسلام کی کسی قسم کی بدنامی متوقع نظر نہیں آرہی تو کیا ضرورت ہے سڑکوں پر خوار ہونے کی ؟

مختصراً میں تو اتنا سمجھتا ہوں کہ اس قسم کے واقعات پر جب متاثرین کو انصاف نہیں ملتا تو انصاف زمین سے اُگنے لگتا ہے اور پھرکوئی نہ کوئی مُلا عمر انصاف دلانے کے لئے اُٹھتا ہے۔ 

اسلئے یاد رکھو کہ اگر تم انصاف نہیں دوگے تو پھر کوئی نہ کوئی مُلا عمر ضرور اُٹھے گا۔۔۔۔۔!!!

آصف شہزاد (مینگورہ سوات)

تبصرے

comments

17جولائی
IMG_3538.JPG

پیشوائیت کا سُرور !!!

میرا تو مشاہدہ ہے کہ مذہبی پیشوائیت کے نشے کا سُرور اقتدار کے نشے سے بھی کہی زیادہ ہے۔

کیسے ؟؟

بھئی وہ ایسے کہ جب سے سرکاری رویت ہلال کمیٹی وجود میں آئی ہے تب سے ہر رمضان شوال اور بکرا عید کو چاند کے مسلۂ پر قوم کو تقسیم کیا جاتا ہے گویا مفتی منیب صاحب اور مولانا پوپلزئی صاحب ہرگز ہرگز ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں !!!

پوپلزئی صاحب کے طریقۂ رویت ہلال کی تو روایت ہی یہی ہے کہ وہ کبھی دوسرے دن چاند دیکھنے کےلئے نہیں بیٹھتے بلکہ پہلے ہی رات کو قصہ خلاص!

یعنی اگر وہ پچس رمضان کو بھی رویت ہلال کیلئے بیٹھ جائے تو بھی پندرہ سے بیس شہادتیں موصول ہونی طے ہیں

پوچھو کیوں ؟؟؟

کیونکہ لگ بھگ دو سو سالوں سے رویت ہلال پر مسلط خاندانی پوپلزئی شہنشاہئت کبھی بھی وہ کسی کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں !!

اور ہر صورت میں حکومتی رویت ہلال سے پہلے اعلان پوپلزئی صاحب کے مذہبی خاندانی شہنشاہئت کو تقویت فراہم کرتا ہے یا یوں کہئے کہ پوپلزئی صاحب مفتی منیب کو غلط ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور اس بابت وہ کچھ بھی کر گزرنے کیلئے تیار ہے چاہے وہ قوم کو تقسیم کرنا ہی کوں نہ ہو !!

دوسری بڑی وجہ مفتی منیب صاحب کا تعلق بریلوی مسلک سے ہونا ہے اور پوپلزئی صاحب اس کے مخالفت میں چاند کو گُڈی کی طرح پہلے پکڑنا اپنی فتح تصور کرلیتا ہے حالانکہ میرے اندازے کے مطابق مفتی منیب صاحب کے باپ بھی چاند کو بریل میں نہیں روک سکتے بلکہ اگر چاند افق پر نمودار ہوجائے تو پورے پاکستان سے چند ہی سہی لیکن مختلف صوبوں کے مختلف علاقوں سے شہادتیں موصول ہونی چاہئے۔ 

ویسے آپس کی بات ہے لیکن مجھے تشویش کی حد تک فکرہے کہ ماہِ رمضان کے اواخر میں پوپلزئی صاحب کو شیاطین آزاد کرانے کی اتنی جلدی کیوں ہوتی ہے؟؟؟

از قلمِ آصف شہزاد ( مینگورہ سوات )

تبصرے

comments

28مئی
IMG_2503.JPG

سیاسی شعور سے گرد اُڑائی تک ۔۔۔!!!

  عزیزان من !

بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے لکھنے کیلئے بہت سارے موضوعات دستیاب تھے مگر میں ان مضوعات پر لکھنا ہی نہیں چاہتا تھا کیونکہ پہلے سے اخبارات میں اس حوالے سے روزانہ کے بنیادوں پر مختلف لکھاریوں کے دھڑادھڑ مضامین کی اشاعت کی ہی وجہ تھی کہ میرا دل اُٹھ سا گیا تھا اور کافی دنوں سے اس موضوع پر لکھنےسے قطعی گریزاں رہا۔ لیکن آج احساسات کی پیالی میں الفاظ نے ایسے مچلنا شروع کردیا کہ کچھ لکھنا ہی پڑ رہا ہے۔ 

 تو چلئیے ہم بھی انتخابات کی بساط پر اپنی قلم کی نوک سے چند الفاظ انڈیلنے کی کوشش کردیتے ہیں!!

عزیزان من !

جیسے کہ جب برسات شروع ہوتی ہے تو مختلف انواع و اقسام کے مینڈک ٹرٹر ٹرٹر کرتے ہوئے اپنی بلوں سے نکل آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اور اسی کے مصداق انتخابات کے موسم میں مبینہ طور پر چند باشعور لوگوں کے علاوہ مختلف انواع و اقسام کے امیدواران میدان میں اترتے نظر آتے ہیں۔ بلکہ اس دفعہ تو ایسے ایسے مشٹنڈو کے پوسٹر اور تصاویر دیکھنے کو ملے ہیں کہ !

لا حولہ ولاقوۃ  

کہا جاتا ہے کہ حالیہ الیکشن میں تو انتخابی مقابلوں کے ساتھ ساتھ مونچھوں کا بھی زبردست مقابلہ جاری ہے اور مونچھیں بھی ایسی کہ بچھو کی ڈنک کی طرح ڈرانے والی ! یقین جانئیےمونچھوں کے اتنے برانڈز آپ نے لوکل سی ڈی ڈراموں میں بھی نہیں دیکھے ہونگے جتنے اس لوکل الکشن میں نصیبِ نظر ہوئے ہونگے ! ہمارے علاقے میں تو شائد ہی کوئی ایسا شخص ہو جس کی بڑی مونچھیں ہو اور الکشن میں کھڑا نہ ہوا ہو بلکہ جی تو کرتا ہے کہ رستے میں جو بھی مونچھوں والا ملے تو فوراً اس سے دریافت کروں کہ بھئی کونسے سیٹ سے الیکشن لڑ رہے ہو ؟

عزیزان من !

پاکستانیوں کی اکثریت قصیدہ گو اور نوحہ فروشوں پر مشتمل ہیں یہ ایسی قوم نما ہجوم ہے جنہیں بچوں کی طرح کھلونوں سے بھی بہلایا جاسکتا ہے۔ ہر دفعہ انتخابات کے چار یا پانچ مہینے بعد بر سر اقتدار آنے والے حکمرانوں پر لعن طعن کرکے نوحہ کناں رہتے ہیں جبکہ گزشتہ حکمرانوں کے قصیدے سناتے نہیں تھکتے۔ 

فلاں زندہ باد فلاں مردہ باد !!

ایک مہینے سے ہمارے کینڈی کرش نوجوانوں نے جہاں علاقائی ڈیروں اور ھجروں میں دھوم مچا رکھی ہے اس سے کہیں زیادہ سوشل میڈیا پر گدھوں کی طرح گرد اُڑا رہے ہیں !!  

سوشل میڈیا کی دیواریں تو خیر رہنے دیجئے لیکن شاہراہوں اور گلی کوچوں کے دیواروں کو جتنا گندا کردیا گیا ہے مجھے نہیں لگتا کہ آسانی سے صاف ہوجائے یا کوئی صاف کرنے کی زحمت بھی ہی کریگا !!! کیونکہ انہی دیوارں پر دس یا بیس سال پرانے انتخابات کے باقیات بھی ابھی تک نمایاں ہیں۔ 

ستم یہ بھی ہے کہ پاکستانیوں کو سیاست دانوں کی مار کھاتے کھاتے ابھی تک عقل نہیں آئی بلکہ اس قوم نما ہجوم کی سیاسی شعور کا تو یہ حال ہے کہ ہر دفعہ ایک ہی طریقے سے اور ایک ہی بل سے ڈس لئے جاتے ہیں اور ائندہ کے لئے بھی وہی طریقۂ کار اور وہی "بل" کارآمد رہتا ہے۔  

گویا ان کو نمرود کی طرح بار بار چھتر کھانے سے راحت ملتی ہے !!

 بھئی مجھے تو ایک بات کی برابر سمجھ آگئی۔ !!

اور وہ یہ کہ ووٹ واقعی قیمتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک اور بات کی بھی برابر سمجھ آگئی ہے کہ اصل میں ووٹ ہی قیمتی ہے۔

میرا مطلب ہے کہیں ایسا نا ہو آپ ووٹ کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بھی اتنا ہی قیمتی تصور کرلو !

کیونکہ ایسا نہیں ہے بھائی ! آپ لوگوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں !! یعنی ووٹ کے ساتھ ووٹر کی ہرگز ہرگز کوئی قدر و قیمت نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کے پاس الیکشن کے بعد غریب عوام سے جان چُھڑانے کے طرح طرح کے طریقے پہلے سے موجود ہیں اور اگر کوئی نیا نیا سیاست میں قدم رکھتا ہے تو وقت کے ساتھ ساتھ دوسرے تجربہ کار پنڈتوں سے یہ طریقے آہست آہستہ سیکھ جاتا ہے۔ اور منتخب ہونے کے بعد ماجرہ بالکل الگ ہوجاتاہے۔   

اگر یہ ووٹ اتنا ہی قیمتی ہے کہ بڑے بڑے سیاستدانوں کو بھکاری کے سامنے بھی بھکاری بنادیتا ہے تو الیکشن کے بعد ووٹر پر کونسی بجلی گر جاتی ہے کہ کوئی نمائیندہ اسے جاننے تک سے انکاری ہوتا ہے !!

بار بار ان تجربات سے گزرنے کے باوجود کچھ لوگ اب بھی یہی کہتے آرہے ہیں کہ ووٹ میں بڑی طاقت ہوتی ہے حالانکہ میرا مشاہدہ اس سے بات بالکل مختلف ہے !! کیونکہ میں نے دیکھا ہے اور کئی بار دیکھا ہے اور اس دفعہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ ووٹوں سے زیادہ طاقت نوٹوں میں ہوتی ہے!

کیوں ؟

 کیونکہ جو نمائندہ زیادہ اخراجات اُٹھارہے ہوتے ہیں اس کو اتنی ہی حمایت مل رہی ہوتی ہے۔ اس کے دو وجوہات ہیں ایک تو اخراجات کی وجہ سے چرچہ بڑھ جاتا ہے اور مذکورہ نمائندے کو ووٹ نہ دینے والے بھی اسی چرچہ کو کامیابی کے واضح امکانات تصور کر لیتے ہیں لہٰذا چار و ناچار ایک ناکام امیدوار کے بجائے کامیاب امیدوار کے ساتھ ہو لیتے ہیں۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ الکشن کے دوران ووٹوں اور نوٹوں کی ادلی بدلی ہوتی رہتی ہے چاہے چوری چھپکے ہو یا چاہے بر ملا !!

قارئین کرام !

المیہ یہ ہے کہ ہم گلی کوچے پکی کرانے کے واسطے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں حالانکہ یہ کام منتخب نمائندوں کے بجائے مختلف این جی اوز اور دیگر خیراتی ادارے بہتر طریقے سے اور بہتر معیار تعمیر کے ساتھ انجام دیتے رہتے ہیں۔

تو اب اس قوم نما ہجوم کے افراد سے عرض ہے کہ سیاست دانوں کے جھنڈوں سے بنے سیاسی برانڈ کی ٹوپیاں ہی سہی ! لیکن اگر آپ کو کوئی ٹوپی پہنا رہا ہے اور آپ کو خوش فہمی ہورہی ہے تو آپ کو ائندہ بھی ٹوپی ہی پہنائی جائیگی۔ 

اس کے ساتھ ساتھ کینڈی کرش نوجوانوں سے انتہائی ادب اور تعظیم کے ساتھ عرض ہے کہ چند دن اور سہی لیکن گرد اُڑائی میں تاریخ رقم ہونی چاہئے !! 

چلتا ہوں ۔۔۔!!! الله حافظ ۔۔۔۔۔۔۔!!!!!

تبصرے

comments

© Copyright 2015, All Rights Reserved