11مارچ
IMG_1536.JPG

ایک غیر معیاری تحریر

(null)

فروری کا مہینہ تھا سردی اپنی شدت کو پہنچ چکی تھی، ہلکی ہلکی بارش اور صبح کا وقت ایک انتہائی خوشگوار کیفیت اور دلکش منظر پیش کررہا تھا۔ میں گھر سے دکان کیلئے نکلا چھتری لئے، خراماں خراماں چہل قدمی شروع کی۔ویسے بھی سردی کا موسم میرا پسندیدہ موسم ہے اور پھر ایسے مواقع تو میرے لئے انتہائی لطف اندرز ہوتے ہیں !
ہوا کے ٹھنڈے جھونکے اور کاٹتی سردی جوکہ عام طور پر لوگوں کو ستاتی ہےاور پریشانی کا باعث بنتی ہے مگر یقین جانئیں میں تو اس دن موسم کے مزے لے رہا تھا بلکہ  یوں کہونگا کہ میں تو ٹھنڈے موسم اور بارش کی رم جھم میں مسرور و مخمور ہوتا ہوا جارہا تھا۔ 
گھر سے دکان تک دو راستے میرے زیر اسعتمال ہیں ایک سڑک کا راستہ ہے جو کہ شارع عام ہے اور دوسرا ندی کا راستہ جو طویل تو ہے لیکن چہل پہل کی کمی و خاموشی کے سبب مجھے پسند ہے اسلئے میری عادت ہے کہ میں جب بھی پیدل جاتا ہوں تو ندی کے راستے ہوتے ہوۓ سہراب خان چوک اور پھر آگے مکانباغ پہنچتا ہوں۔ لہٰذا اس دن میں ندی کے راستے جارہا تھا چھتری پر بارش کی پھوار سے بننے والے قدرتی موسیقی سے لطف اندوز ہوتا ہوا اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔ابھی تقریباً آدھا رستہ ہی طے کیا تھا کہ نظریں ایک کچرا اکھٹا کرنے والے بچے پر پڑی جس کی عمر تقریباً آٹھ سے نو سال تھی لیکن غربت اور ذمہ داریوں کے بوجھ اُٹھاتے اُٹھاتے اپنی عمر سی کئی گنا زیادہ کا لگ رہا تھا۔ یہ بچہ کندھے پر کچرا اکھٹا کرنے والی بوری اٹھائے جلدی جلدی ندی کے طرف جانے کی کوشش کررہا ہے گو کہ وہ دوڑنا چاہتا ہے لیکن جیسے اس کے پاؤں میں بیڑی پڑی ہو یا کوئی دوسری رکاوٹ ہو جو اسے تیز چلنے سے روک رہا ہو اور اسے جانے نہیں دے رہا ہو بہر حال میں تیز قدموں کے ساتھ آگے بڑھا اس کے نزدیک پہنچا اور اسے آواز دیکر روکنے کی کوشش کی تو بچے نے ایک مختصر نظر سے میری طرف دیکھتے ہوئے رُکے بغیر آگے بڑھناجاری رکھا میں تجسس میں تھا اور اس کے لنگھڑے پن کی وجہ بھی جاننا چاہتا تھا کیونکہ اس کا لنگڑا پن مستقل نہیں لگ رہا تھا بلکہ کچھ عارضی تکلیف کی نشاندہی کررہا تھا۔ بہر کیف میں اس کے قریب پہنچ گیا۔تجسس سے اس کی پیروں کی طرف نظریں دوڑائی تو  اس کے پیروں میں ربڑ کے کٹے پھٹے چپلوں نے میری طبیعت کی ساری خوشگواری اور پسندیدہ موسم کا سرور دھڑام سے زمین پر گراتے ہوئے مجھے انسان ہونے پر شرمندہ کردیا اس کے دائیں پیر کے انگوٹھے پر مرہم پٹی کی شبیہہ دینے والا سرخ رنگ کا سلوشن ٹیپ ! جس کا اگلا سِرا کیچڑ اور بارش کے پانی کی وجہ سے گرفت برقرار نہ رکھ پاتے ہوئے اُتر کر لٹک رہا تھا جس نے میرے احساسات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔۔
 اس بچے نے بائیں کندھے پر پیچے کی طرف کچرے کی بوری اور اسی کندھے پر آگے کے طرف پلاسٹک کی چھوٹی سی تھیلی دونوں ہاتھوں سے مضبوطی کے ساتھ پکڑ رکھی تھی۔ تھیلی میں کچھ چاول نظر آرہے تھے اور شائید چاول میں کچھ سالن بھی ملا ہوا تھا کیونکہ تھیلی میں سامنے کی طرف آلو کا ایک عدد چھوٹا سا تکڑا اور نیچے کی طرف کچھ روغن نظر آرہا تھا شائید کسی بندہء پارسا کے خیرات سے ملے تھے یا ہوسکتا ہے کہ کسی ہوٹل کے کچرے سے!
 بچہ الله الله کرکے ندی کنارے پہنچ گیا جہاں بارش کی وجہ سے ندی کے بہاؤ میں اضافے کے سبب بہت سارا کباڑ ندی کنارے اکھٹا ہورہا تھا کچھ اور بچے بھی وہاں پہلے سے موجود تھے جو کہ ندی کنارے سے پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے تکڑے اور کباڑ اکھٹا کرنے میں مصروف تھے۔ مذکورہ بچہ بھی جلدی جلدی کباڑ اکھٹا کرنے میں مصروف ہوگیا۔ !! 
لیکن بچے کی حالت اور انسانیت کی شرمندگی نے میرے منہ پر ندامت کے تھپڑوں کی برسات کردی تھی۔  میں کافی دیر تک وہاں بُت بنا رہا پیروں سے جان چلی گئی تھی جیسےقدم زمیں پر جم گئے ہو انکھیں آب دیدہ اور حلق میں تلخی نے مجھے اتنا بھی نہیں ہونے دیا کہ میں ان بچوں کی کچھ مدد کرپاتا !
٭خیر اپنے ہارے ہوئے ٹوٹے جسم کو اہل قلم ہونے کی تسلی دیتے ہوئے وہاں سے اٹھاکر اپنی منزل تک تو پہنچادیا مگر حلق میں پھنسی تلخی اور ہاتھوں میں عدم جنبش نے سارا دن کام کرنے سے روکے رکھا انتہائی مشکل سے دن کا اختتام ہوا اور رات بھی بہت کرب و تکلیف میں گزاری۔ 
قارئیں کرام !! حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ایسے لوگوں سے بھرا پڑا ہے جن کو کپڑا ، مکان اور دوسرے بنیادی ضروریات تو درکنار کھانے کیلئے بھی کچھ دستیاب نہیں اور یہ محض مفروضوں تک محدود نہیں بلکہ ٹھوس حقیقت بن چکی ہے یہاں تک کہ میرے روز مرہ مشاہدے میں یہ بات کئی دفعہ آچکی ہے جوکہ معاشرے کا انتہائی تشویشناک اور خطرناک پہلو ہے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں انسان کے صبر کا ایک پیمانہ ہے اور معاشرے پر پڑنے والے برے یا اچھے اثرات و نتائج کا دارومدار اس پیمانے پر ہے۔
آج تو ان غریبوں کو جیسے تیسے رزق مل رہا ہے لیکن کل کو اگر ان غریبوں کو کچرے کے ڈھیر سے بھی رزق میسر نہ ہو اور انتقاماً یا نتیجاً اس غریب کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائےکہ اب اپنے حصے کے رزق کو کچرے کے ڈھیر سے چُننا نہیں بلکہ معاشرے کے فرعونوں اور قارونوں سے چھیننا ہے تو یقین جانئے ان لوگوں کو کوئی مائی کا لعل بھی قابو نہیں کرپائیگا اورکوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
اسلئے اگر کوئی اپنے اور اپنے ارد گرد کے امن کا خواہاں ہے تو اسے چاہئے کہ کائینات کو کم از کم اتنا ہی فائیدہ پہنچائیں جتنا فائیدہ وہ کائینات سے لے رہا ہےاور اسلام کا تو فلسفہ ہی یہی ہے کہ ضرورت سے زیادہ مال انسانیت کی فلاح میں خرچ کرو !
الله تعالی قران پاک میں فرماتا ہے کہ
"ضرورت سے زیادہ دوسروں کو دو" (القرآن سورۃ البقرہ آیت نمبر:219)
مطلب انسانیت کی فلاح میں اپنا حصہ ڈالو !
جتنا تجھے ضرورت ہے بے شک رکھ لو لیکن ضرورت سے زیادہ مال تمہارا ہے ہی نہیں لہٰذا اسے انسانیت کی فلاح کے لئے کھلا چھوڑ دو ! 
ورنہ الله تعالٰی نے اس سسٹم کی پروگرامنگ ہی ایسی کی ہے کہ سب کچھ مکافات عمل پر منحسر کردیا گیا ہے اور آج نہیں تو کل ہمیں اس کے نتائج بُگھتنے ہونگے ۔
میرے ناقص ذہن میں ان مسائیل اور معاشرتی ناہمواریوں کے لئے ایک سادہ سا حل ہے جس کے کچھ چیدہ چیدہ نکات پیش خدمت ہیں اور وہ یہ کہ
ہمیں محلے کی سطح پر ایک فلاحی بیت المال تشکیل دینی چاہئے اور ہر محلے کے ایک دیانت دار شخص کو اس بیت المال کا سربراہ مقرر کردینا چاہئے جوکہ دیانت دار ہونے کے ساتھ ساتھ محلے کے غریبوں اور لاچاروں کا خیر خواہ بھی ہو اور کسی بھی سیاسی پارٹی کے جراثیم سے پاک و صاف ہو یہ شخص مذہبی ہو یا دنیادار لیکن دیانت دار اور امانت دار ہونا لازمی ہے اس کے ساتھ ساتھ محلے سے کچھ ایسے رضاکار ہو جو اکاؤنٹ کا کام سنبھالے، محلے کے غریبوں کی خبر رکھے، لوگوں میں شعور اجاگر کریں کہ بیت المال میں اپنا حصہ ڈالیں ، اور خود بھی استطاعت کے مطابق بیت المال کو دیں۔  
محلے کے تمام افراد کو بذریعہ متعلقہ مسجد کے پیش امام اور دوسرے ذرائع کے پاپند بنادیا جائے کہ صاحب استطاعت محلے دار محلے کے بیت المال کیلئے مستقل سطح پر ماہوار رقوم مختص کریں۔
 اور باقی لوگوں کو تلقین کا سلسلہ شروع کردیا جائے کہ اپنے ذکواة اور صدقات و خیرات اس بیت المال کو جمع کیا کریں اور محلے سے باہر بازاری بھکاریوں کو ہرگز کچھ نہ دیں اگر ایک روپیہ بھی صدقہ کرنا ہے تو اپنے محلے کے بیت المال کو دیں۔ اور جمع شدہ رقوم کو صرف محلے کے غرباء میں تقسیم کیا جائے۔ غریبوں اور مسکینوں کی لسٹ بنا دی جائے اور اہستہ اہستہ ان کو کمائی کے مواقع فراہم کئے جائے تاکہ وہ خود کمانے کے قابل بنے نہ کہ خیرات کے عادی
اور بیت المال سے انہیں جو ملتا ہے وہ عزت و احترام اور خفیہ طور سے پیش کیا جائے تاکہ غریبوں اور مسکینوں کی عزت نفس محفوظ رہے۔ 
اسی طرح ہر محلے کی بیت المال کی ذمہ داری ہوگی کہ متعلقہ غریبوں کی خبر رکھے اور انہیں اِدھر اُدھر مانگنے سے روکے اور یقین دہانی کرائے کہ بیت المال اُن کی مدد کے لئے موجود ہے۔
مجھے امید ہے کہ معاشرے کے نکھار میں یہ ایک بہتر پیش رفت ثابت ہوگی۔  
قارئیں کرام !!ہوسکتا ہے میری آج کی یہ تحریر آپ کو غیر معیاری لگی ہو کیونکہ آپ سیاست کے گرم بحثوں میں لپٹے الفاظ کے گورکھ دھندے کو پسند کرنے کے عادی بنادئے گئے ہیں، لہٰذا میں خود ہی اپنی تحریر کا عنوان  " ایک غیر معیاری تحریر" رکھ دیتا ہوں !!

تبصرے

comments

19فروری
IMG_1402.JPG

ہے جرم ضعيفى كى سزا مرگ مفاجات ( میری ایک پرانی تحریر)

ہے جرم ضعيفى كى سزا مرگ مفاجات ( ایک پرانی تحریر)
تحرير : آصف شہزاد

(null)
غزه پر اسرائيلى بربريت جارى ہے سوشل ميڈيا پر قسم قسم كے دل دہلا دينے والے مناظر كے تصاوير اور ويڈيوز اپلوڈ كۓ جارہے ہيں ان مناظر كو ديكھنے كے بعد شائيد ہى كوئى انسان ايسا ہو جو فلسطينى بوڑھوں ، بچوں ، عورتوں اور جوانوں كى بے بسى و لاچارى كےمناظر ديکھ كر ان پہ غمزده نہ ہو !!
مجھے تو رونا آجاتا ہے ايسے مناظر ديكھتے ہوۓ اور آج تو ميں ايک تصوير كو ديکھ كر زار و قطار رويا ہوں تصوير ايسى تھى كہ جس ميں ايک فلسطينى نوجوان اسرائيلى بمبارى سے شہيد ہونے والے اپنے كمسن بيٹے كے كٹے پھٹے جسم كو اٹھاۓ دھاڑيں مارتے ہوۓروتا دكھايا گيا ہے.

ليكن كيا كيا جاۓ ؟ ہمارےحكمرانوں كے پاس كوئى معقول جواز تو ہے نہيں كہ اسرائيل كو سمجھاۓ اور پوچھےكہ بھئى يہ تم لوگ كيا ظلم كررہے ہو؟
يا كم سے كم امريکہ بہادر كو مخاطب كركے اپنا احتجاج ريكارڈ كراۓ ليكن كيسے؟؟

كيونكہ سركارى سطح پر تو پرواز ميں بے غيرتى كى حد تک كوتاہى آچكى ہے اور قومى سطح پر ہم كردار كى حيثيت سےاتنےگرے ہوۓ اور مجرمانہ حد تک ضعيف العقل واقع ہوۓ ہيں كہ ھم پر ايسے ہى لوگ حكمرانى كرينگے جيسے كہ ھم ہيں !!
ھم جيسے منہ كالو پر صلاح الدين ايوبى كى طرح مرد مومن ومجاہد كيسے آسكتا ہے؟

ھم ڈھكوسلے جمہوريت كے بے سُرے ڈُگڈگى پر ناچنے والى وه قوم ہيں جنہوں نے اسلام اور قرآن كو مسجد ميں قيد كرركھا ہے قران كو معاشرےكى زمام تھامنے كے بجاۓ ختم شريف كے روٹيوں اور دم نزع تک محدود كر ركھا ہے.
اور تكفيرى كھيل ميں ہم كمال كو پہنچے ہيں ہم بجاۓ مسلم بن كر متحد ہونے كے كافر كافر كھيل رہے ہيں

بقول شاعر

متحد ہو تو بدل ڈالو نظامِ گلشن……!!!
منتشر ہو تو مرو، شور مچاتے کیوں ہو؟

مسلمانوں كى زوال كى ابتدا ہى تب سے ہوئى ہے جب سے هم نے كردار كو پيچھے چھوڑ كر معاشرتى اداكارى شروع كردى ہے ھم بھول چكے ہيں كہ مسلمان تو وه ہوتا ہے جس كے گفتار و كردار دونوں ميں الله كى برھان چھلكتا دكھائى دے ليكن ھم صرف گفتار كے غازى ہيں
ھم اچھا انسان بننے كے بجاۓ اچھا ہونے كى اداكارى كررہے ہيں.
تو ظاہر بات ہے ہم پر حكومت بھى ہم ميں سے كارٹون نما اداكار ہى كرينگےنا….!!!!

اس كے ساتھ صرف ہم ہى اسرائيلى ورلڈ آرڈر كے غلام نہيں بلکہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھى ہيں. او . آئى . سى اور عرب ليگ نےتو ابھى تک اپنى بد مستيوں و خرمستيوں كى مدہوشى سے فلسطين كى حمايت ميں كروٹ بھى نہيں بدلى اور اقوام متحده اور انسانى حقوق كى بين الاقوامى تنظيميں تو اسرائيل كى ركھيل ہيں.

سننے ميں آيا ہے كہ مصر نے یورپین یونین کے ڈاکٹروں کے وفد کو اپنی بارڈر سے غزہ میں جانے سے روک دیا ! نیز فلسطینی زخمیوں کے مصر داخلے پہ بھی پابندی برقرار ھے گويا فلسطينيوں كو غزه ميں محسور كركے مروايا جارہا ہے غزہ پہ یلغار کے لئے تیار ٹینکوں میں سعودی تیل استعمال ھو رھا ھے ،، اسرائیل کے پاس اپنے ایک دن کے استعمال کا تیل بھی نہیں ھے ،، سب خادم الحرمین الشریفین سے جاتا ہے

یہ عرب قوم پرست خادمین پوری دنیا کے ان مسلمانوں کے خون کے پیاسے هیں جواللہ کی دهرتی پر اللہ کے نظام كا اقتدار چاهتے هیں
كيونكہ الله كےنظام كى خاصيت ہى يہى ہے كہ وه سرحدوں كى قيد سے ماورا پھيلتا جائيگا اور ظاہر بات عرب كو بھى اپنى لپيٹ ميں لے گااور عرب كےشخصى حكومتوں خاتمہ كريگا اس وجہ سے عرب نيشنلسٹ شخصى حكمرانوں كو قطعى طور پر الله كا نظام نہيں چاہيۓ
الله كا نظام تو ايک طرف ان خادمين كا وه بھى دشمن جو جمہوريت ميں رہتے ہوۓ الله كى نظام كا خير خواه ہو.
مصر کی منتخب حکومت کو انہی کی طاقت کے بل بوتے پر اسی فرعون سیسی کی مدد سے گرا کر مصر کی گلیوں کو اخوان کے خون سے رنگا اخوان کا قتل عام بهی ان کے نزدیک جائزهے

اپنے ہى گراتے ہيں نشيمن پہ بجلياں

مسلم دنیا ميں يہ بھى مشہور ہے کہ سعودیہ اور ایران ازلی دشمن ہیں. مگر حیرت کی بات ہے کہ اسرائیل کا تیل سعودیہ سے جا رہا ہے اور دوسری طرف ایرانی صوبہ اصفہان میں یہودیوں کی دوسری بڑی آبادی ہے جن کو آج تک آنچ بھی نہیں ائی.
كوئى بتاسکتا ہے كہ یہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہیں یا باقی ماندہ مسلمانوں کے ؟؟؟

غزه جل رها هے اور مسلم حکمران اس کے شعلوں کی لپٹ سے لطف اندوز ہورہے ہیں اور پوری امت مسلمہ کی غیرت پر صف ماتم بچها ہوا ہے اس تناظر میں یہ جائزه لينا کہ اس خون سے کس کس کے چہرے خون آلود ہيں امت مسلمہ کا مذہبی فریضہ ہے یہ خون مسلم ہے کس رگ سے بہہ رہا ہے یہ الگ بحث ہے

اخر ميں اتنا كہونگا كہ مسلم امہ كو اس ضعف سے نكالنے كيلۓ ہم نے قرآن كو تھامنا ہوگا ہم ميں ہر ايک كو مثالى شخصيت بننا ہوگا ہم نے اپنےكردار پر توجہ دينى ہوگى ورنہ ثوابوں اور دعاؤں سے کچھ نہيں بدلنے والا اپنے آپ سے تبديلى كا اغاز كرنا ہوگا كردار سازى كےمرحلے كےبعد ايک ايسا معاشره وجود ميں آئيگا جو مثالى ہوگا اس كے بعد وه دن دور نہيں جب اسلام كى سنہرى دور كى ياد تازه ہو گى.

اگر ايسا نہيں ہوگا تو پھر بقول اقبال..!!

تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!

تبصرے

comments

16فروری
IMG_1385.JPG

پچاس روپے كا علاج كردو !!

tab3-ss-full-size

گويا ثواب کے بھى اپنے اپنے اسٹنڈرڈ مقرر ہيں
جوكہ امداد کے مستحق پر منحصر ہے يعنى بھوكے كو کھانے كيلۓ كچھ ديا تو بھوکا ثواب ملے گا مريض كو علاج كے پيسے دۓ تو عليل ثواب ملے گا كسى كو تعليم ميں مدد فرمائى تو تعليم يافتہ ثواب ملے گا لہٰذا صاحب استطاعت لوگ اب اسٹنڈرڈ كو ديکھتے ہوۓ مدد كرتے ہيں اب خوار و بھوکے ثواب كا کيا كرنا جب اچھے بھلے اقسام کے ثواب دستياب ہيں.

ميرے دوستوں كو ميرى جنت كى فكر لگى رہتى ہے تو بعض اوقات مجھے نصيحت كرنے لگ جاتے ہيں يا مجھے ثواب كمانے كے مواقع فراہم كرتے ہيں جيسا كہ كل ميرے ايک دوست مجھ سے فرمانے لگے كہ ايک لاچار لڑكى كا داخلہ كرانا ہے ايک كالج ميں اور پرائيويٹ كالج ميں كرانا ہے كيونكہ سركارى كالجوں ميں پڑھائى اچھى نہيں ہوتى مذكوره لڑكى كا سالانہ فيس ساٹھ ہزار روپے تھا جوكہ كالج انتظاميہ نےلڑكى كى غربت كو مد نظر ركھتے ہوۓ اور كچھ همدرد لوگوں كے اصرار پر ساٹھ ہزار سے كم كركے تيس ہزار روپے كردۓ ميرے دوست نے مجھ سے كہا كہ اگر كچھ تعاون آپ كرديں كچھ ميں كردوں اور باقى دوستوں كو موقع ديں تو ھم اس لڑكى كا داخلہ فيس جمع كراسكتے ہيں جوكہ بہت ہى ثواب كا كام ہے.

تو ميں نے بس اتنا كہہ ديا كہ مفلس و غريب بھوكوں مررہے ہيں ايک ايک نوالے كو ترس رہے ہيں ان كے پيٹ ميں بھوک کى آگ لگى ہوئى ہے غربت و افلاس سے مجبور يہ لوگ اپنے جگر گوشوں كو علاج كى سہوليات كى عدم دستيابى كى وجہ سے موت كے حوالے كرنے پر راضى ہيں تو جتنے پيسوں كى گنجائيش ميں نكال سكتا ہوں كيوں نہ ان پيسوں سے كسى غريب كى پيٹ كى آگ بجھے ؟؟ يا كيوں نہ كسى غريب كے بچے كا اتنا ہى علاج ہو سكے جتنے پر وه موت تک كا سفر بغير چيخ و پكار كے طے كر سكے!!!

تو اس نے ناگوار نظروں سے ميرى طرف ديكھا.

ميں ايک شعر سنانے ہى والا تھا كہ اس نے ميرى بات كاٹ كر ميرے دوسرے دوست كو مخاطب كيا اور سرگوشى سے اس كے كان ميں كچھ كہا !!
اندازے كے مطابق انہوں يہ كہا ہوگا كہ يہ بد نصيب كيا جانے کہ يہ مواقع بہت كم لوگوں كو نصيب ہوتے ہيں.

خير
مذكوره بالا دوست نے تو شعر نہيں سنا !! چلو آپ كو سناتا ہوں
؂
وہ جس کا ایک ہی بیٹا ہو ۔۔۔۔۔ بُھوکا آٹھ پہروں سے
بتاؤ اہل ِ دانــــش تم ۔۔۔۔ وہ گــــــندم لے؟یا تختی لے؟

ميں تعليم كو لازمى اور فرض سمجھتا ہوں ليكن پيٹ كى آگ بجھنے كے بعد !!!

"بهوک تہذيب كے آداب بُهلا ديتى ہے"

نظريات و عقل و شعور كى بارى طبعى بقا كے بعد ہى آتى ہے.خالى پيٹ منطق و دليل سے قطعى نااشنا وعارى ہوتا ہے.
بهوک اور خالى پيٹ كسى بهى مہذب قوم كو ناراض جانوروں كےجهنڈ ميں تبديل كرسكتى ہے.

بقول شاعر

دو وقت کی روٹی بھی میسّر نہیں جس کو
کب تک وہ عقیدے کی غذا کھا کے جئے گا

ہمارے معاشرے ميں غربت كے مارے ايسے بھى لوگ ره رہے ہيں جن كو علاج بھى آٹے كى طرح حساب كيمطابق خريدنا پڑتا ہے اور يہ ايک مفروضہ نہيں بلكہ ميرے مشاھدے ميں ہے اور ميں ايسے لوگوں كو جانتا بھى ہوں كہ جن كا اگر بچہ بيمار پڑ جاۓ اور ڈاكٹر كو دكھانا لازمى ہو تو محلے كے ميڈيكل ٹيكنيشن (بابو صاحب) كے پاس جاكر پچاس روپے بابو صاحب كو ديتے ہوۓ كہتے ہيں ڈاكٹر صاحب ميرے بچے كو بچاؤ صبح سے اب تک آٹھ دست ہوچكے ہيں اور قے و اُلٹياں بھى آررہى ہيں.

بابوصاحب كڑک دار لہجے ميں پوچھتا ہے

كتنے پيسے لاۓ ہو؟

جواب ملتا ہے

"پچاس روپے كا علاج كردو"

اور اس کے بعد وہى ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے يعنى بھيک و خيرات سے ملے محدود پيسوں سے تين يا چار چکر لگ جاتے ہيں بابو صاحب كى كلينک تک اور پھر پندره سے بيس دن بعد……!!

فرشتوں نے. . . جسے. . ."سجدہ" کیا تھا
وہ. . . کل …. فٹ پاتھ پر . . مردہ پڑا تھا !

ان بھوکى ننگى لاشوں کا کيا بنے گا؟ کيونكہ اسلام كا اصول ہے كہ زمينى مسائيل كو زمينى وسائيل کےبروۓ كار لاتے ہوۓ زمين والوں نے ہى زمينى طريقوں سے حل كرنے ہيں فرشتے نہيں آئينگے غريبوں كى مدد كرنے !! الله تعالٰى نے ہميں يہ ذمہ دارى سونپى ہے ھم نے ہى ايک ايسا معاشره تشکيل دينا ہے جسں ميں رزق کے سرچشموں کا مساوى و موثر تقسيم ممکن بنايا جاسکے جس كى بنياد ہى معاشرتى انصاف پر ہو جس ميں خيرات دينے والا تو ہو ليکن لينے والا کوئى نہ ہو جس ميں انسان تو انسان كتّے کى بھوک کى بھى فکر ہو اور يہ تب ممکن ہے جب ھم عبادات كيساتھ ساتھ معاشيات کو بھى لازم كرديں.
قريبى رشتہ داروں و ہمسايوں سے ماوراۓ رِيا وتشہير تعاون و صلہ رحمى اپنے اوپر لازم كرديں ان كے زرق كا بندوبست اور علاج كے خرچ كا بندوبست اپنى استطاعت كے مطابق معمول بنائيں تب ہى ايک بدلاؤ آۓ گا جوکہ تبديلى ہوگى
جذباتى و بھڑکتى تبديلى نہيں .. عقلى و منطقى تبديلى !!!

تحریر : آصف شہزاد (مینگورہ سوات)

تبصرے

comments

13فروری
IMG_1414.JPG

پى ٹى آئى كى تبديلى اور اسكول يونيفارم

(null)تحریر: آصف شہزاد (مینگورہ، سوات)۔(link is external)

ویسے تو سياست كے كهيل !! كهيلے ہى ايسے جاتے ہيں كہ عوام كو عوام كى دلچسپى كیلئے سبز باغ دكهاكر عوام ہى كى طاقت كو استعمال كركے اقتدار حاصل كيا جاتا ہے اور پهراسى اقتدار كے زور پہ عوام كے جذبات كا استحصال كيا جاتا ہے.اور اس كے ساتھ ساتھبدقسمتى سے هم ايسے ہجوم كى صورت اختيار كرگۓ ہيں كہ اپنے اكابرين اور سياسى رہنماؤں كے بدبو دار منہ سے نكلنے والے ہر قسم كے جهوٹ پر ايسے يقين كرتے جاتےہيں جيسے " كُل نفس ذائقه الموت" پر۔گزشتہ انتخابات ميں حسب سابق وہى شاطر كهلاڑى ميدان ميں اُترے تهے جو نسل در نسل عوام كے جذبات سے كهيلتے آرہے ہيں اور غريبوں كاخون پسينہ چوسنے سے كسى بهى قسم كا دريغ نہيں كرتے علاوه تحريک انصاف كے چند نۓ چہروں كےسب اميدواران لوٹےبنتےہوئے تحريک انصاف ميں شامل ہوئے تهے.۔انتخابات سے پہلے تبديلى كے نعروں اور نوے دن ميں كرپشن كے خاتمے كے دعووں كے دلفريب كُليے كى بنياد پر ووٹ حاصل كرنےوالی تحريک انصاف كا انصاف تو ابهى تک كاغذات اور دفاتر سے ايک سال گزرنے کے باوجود بهى بد عنوانى كے خلاف عملى ميدان ميں نہ اُتر سكا.ميرے خيال ميں اسں گندے كنويں كو صاف كرنا اتنا آسان نہ تها جتنا تحريک انصاف والے سمجھ رہے تهے۔ اس كهوكهلے اور ناقص جمہوريت كے گندے كنويں سے چاہے جتنى بهى بالٹياں نكالى جائے اس كى صفائى تب تک نہيں ہوگى جب تک كہ اس كنويں ميں سے اس ميں گِرا كتا نہ نكالا جائے۔ ميرے ايک جذباتى انصافيَن دوست فرماتےہيں بلكہ تحريک انصاف كا ہر وركر اور ہر اہلكار كہتا ہے كہ  صوبہ خيبر پختونخواه ميں تحريک انصاف نے پٹواريوں اور محكمہ پوليس ميں اصلاحات كركے كرپشن كا خاتمہ كرديا ہے اور ميں يہ مانتا بهى ہوں كہ ان دو محكموں ميں تبديلى كے آثار سننے ميں آئے ہيں. وه تبديلياں كچھ يوں ہيں كہ ميرے ايک واقف پٹوارى سے ميں نےپوچها كہ بهئى كيا حال چال ہے تحريک انصاف نے حقہ پانى تو بند نہيں كيا نا؟ فرمانے لگے كہ جو كام ہم پانچ ہزار روپے "چائے پانى" ليكر كرتے تهے اب وه پچاس ہزار "چائے پانى"  ليكر كرتے ہيں كيونكہ سختى بہت ہے نا اورنوكرى كو خطره ہوتا ہے.۔ اس كا لفظ "چائے پانى " مجهے بہت پسند آيا۔كل ركشے ميں بهيٹا بازار جارہا تها تو ركشہ ڈرائيور نے انوكها واقعہ سنايا.كہ ايک مزدور تعميراتى كام ميں استعمال ہونے والى لكڑى كى بنى دو پہيوں والى سيڑهى سڑک پر دهكيلتے ہوۓ جارہا تها كہ ٹريفک وارڈن نے روک كر دو سو دس روپے كا پرچہ تهما ديا مزدور منتيں كرتا رہا كہ يہ پيسے مجهے نہيں ملنے والے ليكن وارڈن نےايک نہ سنى.حالانكہ اسى سڑک پر ہتھ ريڑى و گدها گاڑيوں كا گزر بهى ممنوع نہيں. ركشہ ڈرائيورہنستے ہوۓ كہنے لگا كہ بهائى بہت پرچے ديكهے ہيں ليكن سيڑهى كا پرچہ پہلى بار ديكها.موجوده غلطي مغالطوں ميں عمران خان كا ہرگز قصور نہيں كيونكہ عمران خان غلط فہمى ميں تها كہ اس بد صورت  اور بد نما كهوكهلے اور دهكوسلے جمہوريت ميں رہتے ہوئے هم ايک بہترين رياست كى تكميل كرينگے.اب اگر كوئى نزديک كے چشمے ميں دور كا ديكهےگا تو نتجتاً سر تو چكرائے گا نا۔ عمران خان كو "تحريک پاكستان"(1947سےپہلےوالا) اور تحريک انصاف كے بيچ ميں وطن فروشوں و ضمير فروشوں كا اُگلا ہوا زہر نظر نہيں آرہا تها.اور بار بار اقبال كى شعر كے اس مصرعے كا ورد كررہا تها كہ"نيا زمانہ نيۓ صبح و شام پيدا كر"بد عنوانى ہمارے نظام ميں ايسى سرايت كر گئى ہے كہ پاكستان كو كوئى اپنا سمجهتا ہى نہيں ہر كوئى اپنى سوچتا ہے۔اس وقت مجهےاپنے سكول (جہاں ميں دهم تک پڑها ہوں) كى ياد آرہى ہےهم كالے كپڑوں ميں ملبوس ہوكر سكول جاتے تهے اور آج بچے سفيد كپڑوں ميں ملبوس اسى اسكول كو جاتے ہيں.يعنى تبديلى صرف يونيفارم كى حد تک آگئى ہے.باقى سكول كے اندر نظام تعليم وہى كا وہى ہے سليبس وہى كا وہى ہے اساتذه كرام بهى زياده تر وہى ہيں اور سكول كے باہر حفظان صحت كى دهچياں اڑانے والے چهولے فروش اور سموسے فروش آج بهى وہى پر بهيٹے ہيں ۔

تبصرے

comments

© Copyright 2015, All Rights Reserved