Tag: asifshahzad

29ستمبر
IMG_4174.JPG

سوات کے ماتھے کا "جھومر" 

اگر تاریخ کے صفحات کو اُلٹ پلٹ کر دیکھا جائے تو جواب یہی برامد ہوگا کہ اس سحر انگیز وادی کے صاف اور شفاف پانیوں ہی کی وجہ تھی کہ اس وادی کو "سوات" کہا جاتا ہے کیونکہ قدیم زبانوں سے ہوتا ہوا لفظ "سوات" کی معنی "سفید پانی" ہی کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس وادی کے وسط میں بہتے سفید پانی کے دریا ہی کی وجہ تھی کہ یہ علاقہ یعنی "وادی سوات" دور قدیم کے مختلف تہذیبوں کی توجہ کا مرکز رہا اور یہ تہذیبیں ایک طویل عرصے تک دریائے سوات کے کنارے واقع علاقوں میں آباد ہوتی گئیں اور ان علاقوں کو زندگی گزارنے کیلئے موزوں تصور کرتے ہوئے اپنا مستقل مسکن بنالیا تھا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود اب بھی اُن تہذیبوں کے آثار و نشانات دریائے سوات کے کنارے واقع ارد گرد کے علاقوں سےنمودار ہو تے رہتے ہیں۔

 دریائے سوات صرف ایک دریا ہی نہیں بلکہ اس علاقے کی خوشحالی کا ضامن اور یہاں کے باسیوں کا ایک بہترین ذریعہ معاش بھی ہے کیونکہ دریائے سوات ہی ہے جوکہ اس وادی کو ملک کے دیگر سیاحتی مقامات سے منفرد بناتا ہے اور یہی دریا سیاحوں کو سوات آنے پر مجبور کرتا ہے اور اپنی محسور کن کیفیت سے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہوئے یہاں پر گزرتے لمحات کو مسرور و محسوربناتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پہاڑ و جنگلات اور دیگر قدرتی مناظر سے وطن عزیز کے تمام شمالی علاقاجات مالامال ہیں لیکن پھر بھی نسبتاً وادی سوات ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا محور و مرکز رہا ہے اور اب بھی سیاحوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہر سال وادئ سوات کا رخ کرتی نظر آتی ہے اور پچھلے دو یا تین سالوں سے تو اس تعداد میں بے انتہا اضافہ ہوتا آرہا ہے جوکہ آپ لوگوں کے مشاہدے میں بھی آچکا ہوگا۔ الغرض یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ سیاحوں کی آمد میں اضافے کی سب بڑی وجہ دریائے سوات کا سفید اور ٹھنڈا پانی ہے اور سیاحوں کو یہاں آنے پر یہی دریائےسوات مجبور کرتا ہے اور اس دریا کو لامحالہ سوات کے ماتھے کا جھومر کہا جاتا ہے۔

لیکن ٹھرئے !!!

بات یہ ہے کہ میں امید کرتا ہوں کہ آپ نے تحریر کے مندرجہ بالا حصے کو بغور پڑھ لیا ہوگا۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ لمحۂ موجود میں آپ سینہ چوڑا کرکے فخر محسوس کررہے ہونگے کہ آپ کا تعلق ایسے ملک سے ہے جوکہ قدرتی حسن اور تاریخی مقامات سے مالامال ہے۔ لیکن خیر یہ تو تھے قدرتی حسن اور دلکشی سے مالامال وادئ سوات کے باسیوں کیلئے جگہ جگہ برتری جتانے کیلئے خصوصیات ،فخریات ، خوش فہمیاں ، قصیدے ، وغیرہ وغیرہ۔۔۔!!!

اب گزارش یہ ہے آپ لوگوں کے توجہ شریف کو ایک انتہائی اہم مسلۂ کی طرف راغب کرانے کی جسارت کروں؟؟

اچھا تو سُنئیں !!

عرض یہ ہے کہ ہم لوگوں کی ستم ضریفی کا حال تو یہ ہے کہ ہمیں اس دریا کی اہمیت و افادیت کا بالکل شعور ہی نہیں ہے بلکہ ہر وقت اپنی استطاعت کے مطابق اس دریا کو گندا کرنے میں اپنا کردار ادا کررہے ہوتے ہیں۔ اور دریائے سوات کی اہمیت و افادیت کو فراموش کرتے ہوئے جنگلات کی غیر قانونی اور بے دریغ کٹائی اور دریا میں غلاظت ڈالنے پر قطعاً کبھی اواز نہیں اُٹھاتے !!

یاد رہے کہ ۔۔!!

"ظلم کے خلاف اواز اُٹھانے کی استطاعت ہونے کے باوجود اواز نہ اٹھانا ظالم کا ساتھ دینا ہے"۔

جنگلات کی بے دریغ کٹائی کے نقصانات یہ ہیں کہ جگہ جگہ لینڈ سلائڈنگ کے باعث ڈھیر ساری مٹی دریا میں گرجاتی ہے اور ساتھ ہی دریا میں طغیانی اور سیلاب کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ میونسپل کمیٹی مینگورہ سمیت کئی سرکاری و غیر سرکاری ادارے بھی دریائے سوات کو گندگی کا ٹھکانہ بنارہے ہیں اور شہر بھر کی گندگی اور غلاظت دریائے سوات میں گرانے سے قطعی نہیں کتراتے اور لاقانونیت اور بے ضابطگی کے اس عمل میں میونسپل کمیٹی مینگورہ سر فہرست ہے جوکہ گندگی سے بھرے ٹرک قطار در قطار انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ دریائے سوات میں اتارتے رہتے ہیں اور کوئی ان سے پوچنے والا نہیں کیونکہ وطن عزیز میں "سب چلتا ہے" کے مصداق سب ہی چلتا ہے۔۔۔!!!

اسی طرح میونسپل کمیٹی کے کردار کو دیکھتے ہوئے دریائے سوات کے کنارے قائم غیر قانونی ہوٹلز مالکان نے روزانہ کی بنیادوں پر ہوٹلز کی گندگی اور فضلہ دریائے سوات میں ڈالنا اپنا معمول بنا رکھا ہے۔ لمحۂ تشویش تو یہ ہے کہ دریا کے کنارے بنے بے تحاشا ہوٹلز کے مالکان نے نکاسی آب کے پائپ دریائے سوات میں ڈال دئیے ہیں۔ اور کئی جگہوں پر تو فلش سسٹم کے پائپ بھی گٹر کے بجائے دریائے سوات میں ڈال دئے گئے ہیں بلکہ اب تو دریا کے نزدیکی آبادیوں میں گٹر کا تصور بھی ختم ہوتا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دریا کا پانی گندا ہونے کی وجہ سے آبی حیات شدید خطرے سے دوچار ہیں اور یہ پانی تقریباً زہریلا ہوتا جارہاہے جس کی وجہ سے مچھلیوں کے دیگر انواع و اقسام کے ساتھ ساتھ مشہور سواتی مچھلی بھی ناپید ہوتی جارہی ہے۔ کبھی ایسے بھی دن تھے جب ہم بلا جھجک و کراہت دریائے سوات سے پانی پیا کرتے تھے اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کئی مقامی لوگ معمول کے مطابق باقاعدگی سے اسی دریا کا پانی کھانے پینے کے استعمال کےلئے لے جایا کرتے تھے۔ ہمارے تو تصور میں بھی نہیں تھا کہ دریائے سوات کا صاف و شفاف پانی کھانے پینے کے استعمال کے لائق نہیں رہیگا بلکہ ہمیں تو ہر وقت اس فخر اور شکر کا احساس رہتا تھا کہ دریائے سوات صاف اور شفاف پانی کا بہت بڑا ذخیرہ ہے جوکہ اللہ تعالٰی کی خاص مہربانی ہے سوات کے لوگوں پر کہ وادی سوات کو پورے ملک کے دیگر سیاحتی علاقوں سے منفرد بنایا ہے۔

لیکن آج اس دریا پرافسوس کے سوا کچھ نہیں !!!

 

آخر میں ہم وزارت ماحولیات اور مقامی انتظامیہ سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ سوات کے ماتھے کا جھومر اور یہاں کی معاشی بہتری کا ضامن یعنی دریائے سوات کو تباہی سے بچایا جائے اور جنگی بنیادوں پر اس ظلم میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے اور کسی بھی سیاسی مداخلت کو بالائے طاق رکھ کر مخلصانہ طور پر مثبت کردار ادا کیا جائے۔

Writer | Blogger | Photographer | Pakistani
30اپریل
IMG_2285.JPG

 تلخ زندگی سے ایک تلخ دن "یومِ مزدور"

 

 تلخ زندگی سے ایک تلخ دن "یومِ مزدور"

عزیزانِ من !!
یہ گزشتہ سال کا لکھا ہوا مضمون ہے جو کہ کچھ وجوہات کی بنا پر مکمل نہ ہونے کی وجہ سے شائع نہ ہوسکا تھا اور میں نے صرف اپنے فیس بک وال پہ لگایا تھا آج ایک بار پھر یوم مزدورکے موقع پر کچھ لکھنے کا سوچا تو ایک سال سے پڑے اس ادھورے مضمون کی مقدار بڑھاکر اس کو مکمل کیا۔ 
لہٰذا قارئیں کرام کے لئے اس درخواست کے ساتھ پیش خدمت ہے کہ مضمون کے مندرجات کو غور سے پڑھا جائے !!
آج یوم مزدور كے نام پر چهٹى منانے كا دن ہے گويا آج مزدور كى دیہاڑى لگنے كا امكان بہت كم ہے
حالانكہ آج كى مزدورى كے پيسوں كى ضرورت مہينے كے باقى دنوں كى بہ نسبت انتہائى زياده ہے.
آج مہينے كى يكم تاريخ ہے۔ يعنى آج مزدور نے گهر كا كرايا بهى دينا ہے۔ بچوں كی سكول فيس بهى بهرنی ہے اور گهر ميں گھی آٹا بهى ختم ہے۔ 
يہ سارے كام ايک دن كى مزدورى ميں تو ناممكن ہے ليكن مزدور كيلۓ ايک دن كى دهياڑى  خراب ہونے سے ان ميں پانچ سے چھ دن كى ايڈجسٹمنٹ تاخير ہوسكتى ہے جوكہ باعث تشويش ہے۔ يعنى مزدور كيلۓ مئى كے مہينے كا پہلا ہفتہ تلخ زندگى كا تلخ تر مرحلہ ہوتا ہے۔ 
كل ايک مزدور سے يكم مئى كى چهٹى كے حوالے سےبات ہورہى تهى تو اس نےبڑى ساده مگر جامع بات كہى !!! فرمانے لگے 
"مزدور كى مزدورى خراب كرنے كيلۓ مزدوروں كا دن منايا جاتا ہے"
 اس كا مطلب تها كہ اگر اس مهٹى بهر اشرافيہ اور سياسى ٹولے كا ہمارے حقوق كيلۓ كسى قسم كا جد و جہد نہيں تو خالى خولى يوم مزدور منا كر نعروں و بهڑكوں سے ہمارى ايک دن كى مزدورى كيوں خراب كرتے ہيں.
عزیزان من  !!
سوچتا ہوں کہ صرف دنیا پرست ہی نہیں بلکہ ایسے مذہبی سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کی بھی اس ملک میں کمی نہیں جن کے ہاں نفل كے نماز تو بہ كثرت پڑهے جاتے ہيں بے شمار عمرے و حج كۓ جاتےہيں رمضان ميں اعتكاف اور ختم شريف كے اہتمام كۓ جاتے ہيں لیکن ان کے ہاں کام کرنے والے مزدوروں کے اوقات بہت تلخ ہیں اور تو اور ايسے سرمایہ دار لوگ بهى ہيں ہمارے معاشرے ميں جو ہر نمازِجمعہ كيلۓ پاكستان سے مسجد نبوى سعودى عرب بذريعہ ہوائى جہاز جاتے ہيں اور رات كو ہی واپس وطن پہنچتےہيں۔ ان لوگوں كے فيكٹريوں كے گيٹ كے اوپر اپنے پرہیز گار اور متقی ہونے کے اشتہار کے طور پر اسلامی كلمات تو ضرور لكهے ہوتے ہيں ليكن فيكٹرى كے اندر انسانوں سےجانوروں جيسا سلوک ہوتا ہے ان كى فيكٹرى كا مزدور دوائى كى استطاعت نہ ہونے كى وجہ سے تو مر جاتا ہے۔ لیکن یہ لوگ مزدور کے حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے لاكهوں روپے مسجدوں اور مدرسوں كو چنده ميں دیدتےہیں کیونکہ بدلے میں مولوی صاحب اس کے لئے ایک اشتہاری مہم چلاتے ہیں جوکہ اس کے کاروبار میں مزید ترقی کے لئے نسخۂ اکثیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ 
 حالانكہ….!!!  
 اسلام ہی وہ نظام ہے جس نے درس دیا ہے کہ "مزدور کی مزدوری اس کے پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔ مزدور پر اتنا بوجھ نہ ڈالو جس کو اٹھانے کی وہ طاقت نہیں رکھتا ۔ مزدور کو اس سے کچھ زائد بھی دے دیاجائے جو آپ نے اسکے ساتھ طے کیا ہے".
اور اگر ہم اس سے بهى اچها مسلمان بننا چاہے تو…!!
اسلام کا بنیادی فلسفہ ہے كہ
کہ ضرورت سے زیادہ دوسروں کو دو اور محض ضرورت کے مطابق خود پر خرچ کرو۔ 
(Quran _2: 219)
اگر چہ حکومت نے مزدور کی ماہانہ تنخواہ بارہ ہزار روپیہ مقرر کردی ہے مگر ستم یہ ہے کہ یہ قوانین صرف کاغذات کی حد تک محدود ہیں !!
حکومت نے مزدور کے حقوق کے قوانین کو لاگو کرنے کی کبھی  زحمت نہیں کی اور مزدوروں نے بھی اپنے حقوق کے بارے میں جاننے کی کبھی کوئی کوشش نہیں کی اور اگر کسی مزدور کو اپنے حقوق کا پتہ بھی ہے تب بھی وہ خاموش ہے کیونکہ اُسے یہ بھی پتہ ہے کہ زبان کھولتے ہی اس کے گھر کا چولہا ٹھنڈہ ہوسکتا ہے کیونکہ جب بھی کسی مزدور نے متعلقہ سرکاری ادارے کو تنخواہ یا اوقات کار یا کسی اور حق تلفی کی شکایت لگائی ہے تو وہی آفسر آکر فیکٹری کے مالک یا صنعتکار سے کہتا ہے آپ کا فلاں مزدور آیا تھا شکایت کرنے اب آپ حکم کریں اس کا کیا کیا جائے؟ 
لہٰذا آفسر اپنی مُٹھی تو گرم کرلیتا ہے لیکن مزدور کے گھر کا چولہا ٹھنڈہ ہوجاتا ہے۔ 
اور سارے سرمایہ دار یا صنعتکار ایسے بھی نہیں ہیں بلکہ ان میں کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جوکہ مزدور کو واقعی ماہانہ تنخواہ حکومت کی مقرر کردہ یعنی بارہ ہزار روپے دیتے ہیں لیکن اُن سے کام آٹھ گھنٹے کے بجائے بارہ گھنٹے لیا جاتا ہے اور کچھ سرمایہ دار یا صنعتکار ایسے بھی ہیں جو مزدور کو تنخواہ بھی بارہ ہزار روپے دیتے ہیں اور کام بھی آٹھ گھنٹے لیتے ہیں۔ 
لیکن آپ یہ ہرگز نہ سمجھئیں کہ یہ اچھےلوگ ہیں۔ ہوسکتا ہے ان میں کچھ خدا ترس اچھے لوگ بھی ہو لیکن اکثریتی طور پر یہ سلوک ان کی مجبوری ہوتی ہے کیونکہ یہ لوگ اصل میں ایکسپورٹ کا کام کرتے ہیں اور باہر ممالک کے کمپنیوں کے ساتھ ان کے معاہدے اسی شرط پر طے ہوتے ہیں کہ جس فیکٹری میں مال بن رہا ہے آیا اس کے مزدوروں کے حقوق پورے ہورہے ہیں یا نہیں اور معاہدہ کرتے وقت زبانی طور ہاں یا ناں سے کام نیں چلتا بلکہ باقائدہ طور کاغذات درکار ہوتے ہیں جیسا کہ فیکٹری میں پڑاتنخواہ رجسٹرڈ اور اوقات کار کا رجسٹرڈ اس کے ساتھ تعطیل سرٹیفیکیٹ ہوگیا اور شائید اور بھی بہت سارے کاغذات ہو جس کے بارے میں مجھے زیادہ معلومات نہیں ہیں۔        
جب تک مزدروں کے حقوق کے لئے سرکاری طور پر کسی ادارے کو پابند اور فعال نہیں بنادیا جاتا !
اور متعلقہ ادارے کے ضمیر فروش اور ایمان فروش عملہ کے خلاف قانونی کاروائی کرکے کیفر کردار تک نہیں پہنچادیا جاتا !!
 اور ان کے بدلے ایماندار اور خدا ترس عملہ جو کہ مزدوروں کو ان کے حقوق دلوانا اپنا فرض اور عبادت سمجھتے ہو ایسے لوگوں کو  نہیں لایا جاتا !!
 مزدوروں کے مخلص راہنماؤں کی طرف سے تنظیم سازی کا مرحلہ شروع نہیں ہوتا !!
مزدور اپنے حقوق کے بارے معلومات حاصل نہیں کرتا !!
سماجی طور پر صاحب مرتبہ اور صاحب طاقت لوگوں کے ساتھ ساتھ اہل قلم جب تک مزدوروں کے حقوق کے لئے اواز بلند نہیں کرتے۔ 
تو سال میں ایک دن مزدوروں کے حقوق کےلئے رونا بے کار ہے۔ 
اور طے ہے کہ مزدوروں کا استحصال اس طرح زور پکڑتے ہوئے جاری رہیگا مزدور کا بیٹا بڑا ہوکر مزدور ہی رہیگا اور بیٹے کا بیٹا بھی مزدور  !!
Writer | Blogger | Photographer | Pakistani
17اپریل
IMG_2212.JPG

بھئی رہنے دیں ڈِگری وِگری !!

بھئی رہنے دیں ڈِگری وِگری !!
____________________________
کسی نے خوب کہا ہے کہ ڈگریاں بہر حال صرف تعلیمی اخراجات کی رسیدیں ہوتی ہیں اصل کام تو علم اور عقل و شعور رکھنے والے کر جاتے ہیں۔
جیسا کہ سٹیو جوبز (steve jobs)
یا ویلیم شیکسپئیر کی ہی مثال لے لیں جو کہ باقاعدہ طور پر ڈگری یافتہ تو نہیں تھےلیکن انہوں نے جو کر دکھایا وہ کسی سے ڈھکا چُپا نہیں بلکہ سب کو معلوم ہے اور پوری دنیا اُنہیں جانتی ہے۔ 
اور صرف یہ دونوں ہی نہیں بلکہ ایسے اور بھی بہت سارے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے ڈگریاں نہ ہوتے ہوئے دنیا بدل ڈالی !!
 بغیر ڈگریوں کے مختلف شعبہ جات میں ایسے انقلاب برپا کردئے کہ آج تک پوری دنیا ان کے کئے گئے کام سے فیضیاب ہورہی ہیں۔  
 اور جیسا کہ سب کو معلوم ہونا چاہئے کہ عقل و شعور کی کوئی ڈگری ہی نہیں ہوتی اور نہ ہی عقل و شعور کا کوئی پیمانہ ہوتا ہے !!
اس کے ساتھ ساتھ دوسری بات یہ ہے کہ ڈگری جعلی بھی تو ہوسکتی ہـــــے !
بلکہ میرے ایک دوست کے مطابق اصلی اور جعلی ڈگریوں کی بہت سی اقسام مارکیٹ میں آچکی ہیں جوکہ مندرجہ ذیل ہیں۔ 
* ایک ڈگری وہ ہے جو باقاعدہ تعلیم کے ساتھ تسلیم شدہ اصلی ادارے کی اصلی مہر والی ہے۔
* ایک ڈگری وہ ہے جو بغیر امتحان میں بیٹھے اصلی مہر کے ساتھ حاصل کی گئی ہے۔
* ایک ڈگری وہ ہے جو کسی جعلی ادارے کی جعلی مہر والی ہے ۔
* ایک ڈگری وہ ہے جو اصلی ادارے اور اصلی مہر کے ساتھ مگر بغیر روزانہ حاضری کے محض امتحان میں بیٹھ کر حاصل کی گئی ہے۔
*ایک وہ ڈگری ہے جو مکمل حاضری مگر مکمل نقل مار کر حاصل کی گئی ہے۔
* اور پھر ایک ڈگری وہ ہے جو اصلی تو ہے مگر ایسے بد دیانت اور بزدل انسان کے پاس ہے کہ جو اس کا استعمال مفاد عامہ کی بجائے ذاتی مفاد کے لیے ہی کرتا ہے۔
* ایک اور ڈگری وہ ہے جسکا حامل ملازمت حاصل کرنے کے بعد نجی تعلیمی اداروں پر کیے گئے اپنے اخراجات کی وصولی کے لیے تمام جائز و ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے۔
* ایک ڈگری وہ ہے جو تھرڈ ڈویژن بھی ہو تو خیر ہے لیکن  اگر ڈگری کا حامل اپنی طاقت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لے۔ پھر ایسے شخص کے آگے تو بڑے بڑے پی ایچ ڈی بھی پانی بھرتے ہیں۔ 
اسلئے ڈگریوں کے پٹاری رکھنے والوں سے عرض ہے کہ ڈگریوں کے پٹاری کو بے شک اپنے سر پہ اُٹھائے رکھو اور میری بات مانو تو دن میں کم از کم پانچوں اوقات پٹاری کو چاٹ بھی لگایا کرو لیکن ڈگریوں کے اس پٹاری کو دوسروں کی ذلت اور خود کے عزت کا ذریعہ ہرگز نہ بناؤ بلکہ کچھ ایسا کردکھاؤ کہ لوگوں کے دلوں میں خود بخود آپ کی عزت بڑھے۔۔۔۔۔۔۔!!!!
اور پاکستان میں تو ڈگریاں ٹماٹر کی قیمت پر دستیاب ہیں ایک صاحب کا تو سُنا ہے کہ ہر قسم کی ماسٹر ڈگری بمعہ سرکاری ریکارڈ کے تین لاکھ روپے میں بناکے دیدیتا ہے۔ 
ایک زمانہ تھا جب لوگ علم حاصل کرتے تھے لیکن اب ڈگریاں حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ ڈگری کے ہوتے ہوئے علم کی کیا اوقات ؟؟
اگر ہمارے ملک میں غریبوں کے بچے ڈگری کے حصول کے لئے جان لڑاکر ڈگری حاصل بھی کرلے تب بھی ہم پر قابض اشرافیہ قطعاً اس کے لئے تیار نہیں کہ غریب کے بچے کو اعلٰی عہدہ تو درکنارادنیٰ درجے کی نوکری ہی عطا کردیں۔
اس لئے ڈگریوں کے حصول کے باوجود ڈگری یافتہ غریب ذادوں سے جان چُڑانے کے لئے انٹری ٹیسٹوں اور پیشہ وارانہ امتحانات کے ذریعے جس طریقے سے ڈگریوں کی تذلیل کی جا تی ہے اس کے بارے میں آپ اُن سے پوچھئیں جو اِن تلخ مراحل سے گزر چکے ہیں۔ 
اس ملک میں ڈگری کی حیثیت اور معنی کو جو شخص صحیح سمجھا وہ ہے نواب اسلم رئیسانی جس نے ڈھنکے کی چوٹ پہ ببانگ دہل کہہ دیا تھا "کہ ڈگری تو ڈگری ہے چاہے اصلی ہو نا نقلی !!"
اب اگر دیکھا جائے اور سوچا جائے اور رئیسانی صاحب کے بے ڈھنگے اور نوابانہ انداز کو ایک طرف رکھتے ہوئے غور و فکر کے ساتھ شعوری طور پر سوچا جائے تو بات بہت ہی وزن دار کہی ہے اُنہوں نے!
مطلب پاکستان میں  کوئی عہدہ حاصل کرنے یا حکمران بننے کے لئے ڈگری یافتہ ہونا ضروری نہیں بلکہ طاقتور اور دولت مند ہونا ضروری ہے ان دو چیزوں کے علاوہ جتنے بھی مسائیل ہیں سب کاغذی مسائیل ہیں جوکہ مزید کاغذ استعمال کرکے حل کئے جاسکتے ہیں۔ 
میں تو کہتا ہوں پاکستان کو اس حالت پر لانے والوں میں زیادہ کردار ان ڈگری والوں کا ہی ہے جو کہ اپنی اعلٰی تعلیمی ڈگریوں کے بل بوتے پر وطن عزیز کو نوچ رہے ہیں اور انتہائی نااہل ہوتے ہوئے بھی ملک کے اختیار مند بنے بیٹھے ہیں۔
حالانکہ یہ ڈگریوں کا اچار ڈالے ہوئے غیر معیاری با اثر شخصیات معاشرے کے فلاح میں کوئی بھی مثبت کردار ادا نہیں کرسکتے !
لہٰذا میرا ذاتی مشورہ ہے کہ کسی کی عزت و ذلت کا فیصلہ ڈگری پر نہ کیا کرو بلکہ ہر انسان کے عقل و شعور کو دیکھو اور اس کی سچائی اور معاشرتی کردار کو دیکھو۔   
ورنہ ڈگری تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! چلیئے رہنے دیں ۔۔!!
تحریر : آصف شہزاد (مینگورہ سوات)
Writer | Blogger | Photographer | Pakistani
© Copyright 2015, All Rights Reserved