Tag: hajj

28ستمبر
IMG_4158-0.jpg

بھگدڑ کی لاشیں !!!

عرض یہ ہے کہ لاشوں کو فوری طور پر وہاں سے اُٹھانا وقت کی مناسبت سے بہترین فیصلہ تھا چاہے کرین یا بلڈوزر سے ہٹائے گئے ہو یا ہاتھوں سے !!

چاہے ایک دوسرے کے اوپر لاد کر انبار بنادئے گئے ہو یا ایک ایک کرکے سٹریچر پر !! 

لیکن مقصد تھا نظام کو فوری طور پر بحال کرنا اور حج کےانتظام کو روکے بغیر رستہ صاف کرنا اور سہل گزار بنانا۔۔۔!!!

 تاکہ مزید نقصان سے بچا جاسکے اور تماشا بھی نہ ہو۔۔۔۔!!! 

لاشیں تو لاشیں ہیں ان میں  "ارواح" تو تھیں نہیں !!

چاہو تو منوں مٹی ڈال کر دفن کردو یا چاہو تو سمندر میں پھینک آؤ کوئی قید نہیں ! کوئی پابندی نہیں !!  

وہ لوگ تو مرتے ہی عالم ارواح میں پہنچ گئے تھے اور خالق حقیقی سے جا ملے تھے اب اللہ تعالٰی کا فیصلہ ہے کہ انہیں کونسا مقام عطاء کرتا ہے !! کیونکہ جزا اور سزا کا معاملہ تو "روح" کے ساتھ ہے !!

المیہ یہ ہے مسلمانوں کو انتہائی آسانی سے بہکادیا جاتا ہے اور عرب کو نشانہ بناکر مسلمانوں کو اسلام سے بد ظن کرانے کی مذموم کوشش کیجاتی ہے۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ سرزمین عرب پر بُرے لوگوں کی بھی کمی نہیں لیکن اسلام کے دشمنوں اور ملحدین کو ہرگز یہ حق حاصل نہیں کہ چند بد مست شیوخ کے ذاتی کردار کو اسلام سے منسوب کرکے اسلام پہ لعن طعن کرنا شروع کردے میں کبھی بھی اسلام سے بیزار شیوخ کا دفاع نہیں کرونگا لیکن کون نہیں جانتا کہ عرب خادمینِ حرمین حج انتظامات میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتنےدیتے اور حجاج کرام کو تمام ممکن سہولیات اور انتظامات فراہم کرتے ہیں۔

منٰی واقع یقیناً انتہائی افسوسناک واقع ہے لیکن اس قسم کے واقعات کی وجوہات میں حجاج کی بد نظمی کا عنصر زیادہ شامل ہوتا ہےاور حالیہ واقع کے تحقیقات سے بھی یہی شواہد ملے ہیں۔

لیکن اُس موقع کےچند تصاویر کو بنیاد بناکر ملحدین کی جانب سے سوشل میڈیا پر طرح طرح کے بھونڈی اور غیر معیاری پوسٹوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ سعودی عرب میں سینکڑوں سالوں سے یہی روایت رہی ہے کہ لاشوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی اور قدر و احترام "ارواح" کی ہی ہوتی ہے اور عرب میں تو قریبی رشتہ داروں کے لاشوں کو بھی ٹھکانے لگانے کےلئے کسی قسم کی زحمت نہیں اُٹھائی جاتی بلکہ حکومت کی طرف سے یہ کام مقامی میونسپیلٹی کے سپرد کردیا گیا ہے یہاں تک کہ اگر کسی کے والدین یا اولاد میں بھی کوئی فوت ہوجاتا ہے تب بھی میونسپیلٹی کو فون کیا جاتا ہیں اور وہ آکر میت لے جاتے ہیں۔ 

اور یہی رویہ قبروں کے ساتھ بھی ہےعرب میں قبریں بھی ایسی ہوتی ہیں کہ چند سالوں میں ان کا نام و نشان مٹ جاتا ہے جیسے کہ الجنۃ البقیع اس کی زندہ مثال ہے جہاں جلیل القدر اصحابہ کرام کی قبریں بھی زمین کے ساتھ ہموار ہوگئیں ہیں۔ 

اور ویسے بھی اسلام زندہ انسانوں کے قدر و احترام کی تلقین کرتا ہے اور مردہ جسموں کو ٹھکانے لگانے کا درس دیتا ہے اور ہمیشہ زندہ انسانوں کی قدر و احترام اور ایک دوسرے کے عزت نفس کی تعلیم دیتا ہے۔ 

تحریر از قلم : آصف شہزاد ( مینگورہ سوات )

Writer | Blogger | Photographer | Pakistani
© Copyright 2015, All Rights Reserved