Tag: suvastu

29ستمبر
IMG_4174.JPG

سوات کے ماتھے کا "جھومر" 

اگر تاریخ کے صفحات کو اُلٹ پلٹ کر دیکھا جائے تو جواب یہی برامد ہوگا کہ اس سحر انگیز وادی کے صاف اور شفاف پانیوں ہی کی وجہ تھی کہ اس وادی کو "سوات" کہا جاتا ہے کیونکہ قدیم زبانوں سے ہوتا ہوا لفظ "سوات" کی معنی "سفید پانی" ہی کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس وادی کے وسط میں بہتے سفید پانی کے دریا ہی کی وجہ تھی کہ یہ علاقہ یعنی "وادی سوات" دور قدیم کے مختلف تہذیبوں کی توجہ کا مرکز رہا اور یہ تہذیبیں ایک طویل عرصے تک دریائے سوات کے کنارے واقع علاقوں میں آباد ہوتی گئیں اور ان علاقوں کو زندگی گزارنے کیلئے موزوں تصور کرتے ہوئے اپنا مستقل مسکن بنالیا تھا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود اب بھی اُن تہذیبوں کے آثار و نشانات دریائے سوات کے کنارے واقع ارد گرد کے علاقوں سےنمودار ہو تے رہتے ہیں۔

 دریائے سوات صرف ایک دریا ہی نہیں بلکہ اس علاقے کی خوشحالی کا ضامن اور یہاں کے باسیوں کا ایک بہترین ذریعہ معاش بھی ہے کیونکہ دریائے سوات ہی ہے جوکہ اس وادی کو ملک کے دیگر سیاحتی مقامات سے منفرد بناتا ہے اور یہی دریا سیاحوں کو سوات آنے پر مجبور کرتا ہے اور اپنی محسور کن کیفیت سے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہوئے یہاں پر گزرتے لمحات کو مسرور و محسوربناتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پہاڑ و جنگلات اور دیگر قدرتی مناظر سے وطن عزیز کے تمام شمالی علاقاجات مالامال ہیں لیکن پھر بھی نسبتاً وادی سوات ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا محور و مرکز رہا ہے اور اب بھی سیاحوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہر سال وادئ سوات کا رخ کرتی نظر آتی ہے اور پچھلے دو یا تین سالوں سے تو اس تعداد میں بے انتہا اضافہ ہوتا آرہا ہے جوکہ آپ لوگوں کے مشاہدے میں بھی آچکا ہوگا۔ الغرض یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ سیاحوں کی آمد میں اضافے کی سب بڑی وجہ دریائے سوات کا سفید اور ٹھنڈا پانی ہے اور سیاحوں کو یہاں آنے پر یہی دریائےسوات مجبور کرتا ہے اور اس دریا کو لامحالہ سوات کے ماتھے کا جھومر کہا جاتا ہے۔

لیکن ٹھرئے !!!

بات یہ ہے کہ میں امید کرتا ہوں کہ آپ نے تحریر کے مندرجہ بالا حصے کو بغور پڑھ لیا ہوگا۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ لمحۂ موجود میں آپ سینہ چوڑا کرکے فخر محسوس کررہے ہونگے کہ آپ کا تعلق ایسے ملک سے ہے جوکہ قدرتی حسن اور تاریخی مقامات سے مالامال ہے۔ لیکن خیر یہ تو تھے قدرتی حسن اور دلکشی سے مالامال وادئ سوات کے باسیوں کیلئے جگہ جگہ برتری جتانے کیلئے خصوصیات ،فخریات ، خوش فہمیاں ، قصیدے ، وغیرہ وغیرہ۔۔۔!!!

اب گزارش یہ ہے آپ لوگوں کے توجہ شریف کو ایک انتہائی اہم مسلۂ کی طرف راغب کرانے کی جسارت کروں؟؟

اچھا تو سُنئیں !!

عرض یہ ہے کہ ہم لوگوں کی ستم ضریفی کا حال تو یہ ہے کہ ہمیں اس دریا کی اہمیت و افادیت کا بالکل شعور ہی نہیں ہے بلکہ ہر وقت اپنی استطاعت کے مطابق اس دریا کو گندا کرنے میں اپنا کردار ادا کررہے ہوتے ہیں۔ اور دریائے سوات کی اہمیت و افادیت کو فراموش کرتے ہوئے جنگلات کی غیر قانونی اور بے دریغ کٹائی اور دریا میں غلاظت ڈالنے پر قطعاً کبھی اواز نہیں اُٹھاتے !!

یاد رہے کہ ۔۔!!

"ظلم کے خلاف اواز اُٹھانے کی استطاعت ہونے کے باوجود اواز نہ اٹھانا ظالم کا ساتھ دینا ہے"۔

جنگلات کی بے دریغ کٹائی کے نقصانات یہ ہیں کہ جگہ جگہ لینڈ سلائڈنگ کے باعث ڈھیر ساری مٹی دریا میں گرجاتی ہے اور ساتھ ہی دریا میں طغیانی اور سیلاب کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ میونسپل کمیٹی مینگورہ سمیت کئی سرکاری و غیر سرکاری ادارے بھی دریائے سوات کو گندگی کا ٹھکانہ بنارہے ہیں اور شہر بھر کی گندگی اور غلاظت دریائے سوات میں گرانے سے قطعی نہیں کتراتے اور لاقانونیت اور بے ضابطگی کے اس عمل میں میونسپل کمیٹی مینگورہ سر فہرست ہے جوکہ گندگی سے بھرے ٹرک قطار در قطار انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ دریائے سوات میں اتارتے رہتے ہیں اور کوئی ان سے پوچنے والا نہیں کیونکہ وطن عزیز میں "سب چلتا ہے" کے مصداق سب ہی چلتا ہے۔۔۔!!!

اسی طرح میونسپل کمیٹی کے کردار کو دیکھتے ہوئے دریائے سوات کے کنارے قائم غیر قانونی ہوٹلز مالکان نے روزانہ کی بنیادوں پر ہوٹلز کی گندگی اور فضلہ دریائے سوات میں ڈالنا اپنا معمول بنا رکھا ہے۔ لمحۂ تشویش تو یہ ہے کہ دریا کے کنارے بنے بے تحاشا ہوٹلز کے مالکان نے نکاسی آب کے پائپ دریائے سوات میں ڈال دئیے ہیں۔ اور کئی جگہوں پر تو فلش سسٹم کے پائپ بھی گٹر کے بجائے دریائے سوات میں ڈال دئے گئے ہیں بلکہ اب تو دریا کے نزدیکی آبادیوں میں گٹر کا تصور بھی ختم ہوتا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دریا کا پانی گندا ہونے کی وجہ سے آبی حیات شدید خطرے سے دوچار ہیں اور یہ پانی تقریباً زہریلا ہوتا جارہاہے جس کی وجہ سے مچھلیوں کے دیگر انواع و اقسام کے ساتھ ساتھ مشہور سواتی مچھلی بھی ناپید ہوتی جارہی ہے۔ کبھی ایسے بھی دن تھے جب ہم بلا جھجک و کراہت دریائے سوات سے پانی پیا کرتے تھے اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کئی مقامی لوگ معمول کے مطابق باقاعدگی سے اسی دریا کا پانی کھانے پینے کے استعمال کےلئے لے جایا کرتے تھے۔ ہمارے تو تصور میں بھی نہیں تھا کہ دریائے سوات کا صاف و شفاف پانی کھانے پینے کے استعمال کے لائق نہیں رہیگا بلکہ ہمیں تو ہر وقت اس فخر اور شکر کا احساس رہتا تھا کہ دریائے سوات صاف اور شفاف پانی کا بہت بڑا ذخیرہ ہے جوکہ اللہ تعالٰی کی خاص مہربانی ہے سوات کے لوگوں پر کہ وادی سوات کو پورے ملک کے دیگر سیاحتی علاقوں سے منفرد بنایا ہے۔

لیکن آج اس دریا پرافسوس کے سوا کچھ نہیں !!!

 

آخر میں ہم وزارت ماحولیات اور مقامی انتظامیہ سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ سوات کے ماتھے کا جھومر اور یہاں کی معاشی بہتری کا ضامن یعنی دریائے سوات کو تباہی سے بچایا جائے اور جنگی بنیادوں پر اس ظلم میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے اور کسی بھی سیاسی مداخلت کو بالائے طاق رکھ کر مخلصانہ طور پر مثبت کردار ادا کیا جائے۔

Writer | Blogger | Photographer | Pakistani
© Copyright 2015, All Rights Reserved